ایشیائی مارکیٹ میں پیر کو خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یورپی یونین کے ساتھ تجارتی مذاکرات کی تاریخ میں توسیع دی جس سے امریکہ کی جانب سے ممکنہ ٹیکسز خدشات کم ہوئے اور عالمی معیشت اور طلب پر منفی اثرات کے امکانات کم ہوگئے۔
برنٹ کروڈ فیوچرز 37 سینٹ یا 0.6 فیصد اضافے سے 65.15 ڈالر فیبیرل تک پہنچ گیا جب کہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کروڈ کی قیمت میں 34 سینٹ یا 0.6 فیصد کا اضافہ ہوا اور یہ فی بیرل 61.87 ڈالر پر جا پہنچا۔
آئی جی مارکیٹ کے ماہر تجزیہ کار ٹونی سائی کمور نے کہا کہ صبح امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے تاریخ میں توسیع کے اعلان کے بعد تیل اور امریکی اسٹاک فیوچرز میں زبردست تیزی دیکھنے میں آئی ہے
ٹرمپ نے اعلان کیا کہ یورپی کمیشن کی صدر کی درخواست پر یورپی یونین کے ساتھ تجارتی مذاکرات کی تاریخ 9 جولائی تک بڑھانے پر اتفاق کیا گیا ہے، تاکہ بلاک کو معاہدہ طے کرنے کے لیے مزید وقت میسر آ سکے۔
ٹونی سائی کمور نے کہا کہ رواں ہفتے تجارتی اور ٹیرف سے متعلق خبروں کے ساتھ جاری مالیاتی خدشات بھی رسک سینٹیمنٹ اور خام تیل کی قیمتوں کے لیے سب سے بڑا غیر یقینی عنصر ثابت ہوں گے۔
برنٹ اور ڈبلیو ٹی آئی کی قیمتوں میں اُس وقت مزید اضافہ دیکھنے میں آیا جب جمعہ کو یہ دونوں 0.5 فیصد اضافے سے بند ہوئے۔ امریکہ اور ایران کے جوہری مذاکرات میں سست رفتار پیش رفت نے ایرانی تیل کی عالمی منڈی میں واپسی کے خدشات کو کم کردیا جب کہ امریکی خریداروں نے 3 روزہ میموریل ڈے ویک اینڈ سے قبل اپنی خریداری کو یقینی بنایا جس سے قیمتوں کو مزید تقویت ملی۔
قیمتوں میں اضافے کی ایک اور وجہ بیکر ہیوز کی جاری کردہ رپورٹ تھی، جس کے مطابق گزشتہ ہفتے امریکی کمپنیوں نے کم ہوتی تیل کی قیمتوں کے دباؤ کے باعث 8 آئل رگز بند کر دیے جس سے فعال رگز کی تعداد کم ہو کر 465 رہ گئی — جو نومبر 2021 کے بعد کم ترین سطح ہے۔
قیمتوں میں اضافے کی رفتار کو اس توقع نے محدود کردیا کہ تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم (اوپیک) اور اس کے اتحادی، جنہیں اجتماعی طور پر اوپیک پلس کہا جاتا ہے، آئندہ ہفتے ہونے والے اجلاس میں جولائی کے لیے پیداوار میں یومیہ مزید 4 لاکھ 11 ہزار بیرل اضافے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔
رائٹرز نے رواں ماہ رپورٹ کیا کہ اوپیک پلس ممکنہ طور پر اپنی باقی ماندہ 22 لاکھ بیرل یومیہ رضاکارانہ پیداوار میں کٹوتی کو اکتوبر کے آخر تک مکمل طور پر ختم کرسکتا ہے، جب کہ اپریل، مئی اور جون کے لیے وہ پہلے ہی پیداوار کے اہداف میں تقریباً 10 لاکھ بیرل یومیہ اضافہ کرچکا ہے۔