پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں پیر کے روز منفی رجحانات دیکھے گئے جہاں کے ایس ای-100 انڈیکس کاروباری دن کے اختتام پر تقریباً 900 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ بند ہوا۔
تجارتی سیشن کے دوران فروخت کے دباؤ کا سلسلہ برقرار رہا، جس کے باعث کے ایس ای 100 انڈیکس ایک موقع پر کم ہو کر انٹرا ڈے کی کم ترین سطح 118,150.27 پوائنٹس تک گر گیا۔
کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس 881.55 پوائنٹس یا 0.74 فیصد کمی کے ساتھ 118,221.12 پوائنٹس پر بند ہوا۔
اہم شعبوں میں فروخت کا دباؤ دیکھا گیا جن میں آٹوموبائل اسمبلرز، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کمپنیاں، آئل مارکیٹنگ کمپنیاں (او ایم سیز) اور بجلی پیدا کرنے والے ادارے شامل تھے۔ انڈیکس پر اثر انداز ہونے والے بڑے اسٹاکس جیسے حبکو، او جی ڈی سی ، پی پی ایل، پی او ایل، ماری، پی ایس او اور ایس ایس جی سی منفی زون میں ٹریڈ کرتے نظر آئے۔
گزشتہ ہفتے اسٹاک ایکسچینج مسلسل دباؤ کا شکار رہی کیونکہ سرمایہ کاروں نے آئندہ وفاقی بجٹ سے قبل محتاط رویہ اپنایا ہو اہے۔ مجوزہ ٹیکس اقدامات سے متعلق بڑھتی ہوئی تشویش کے باعث مارکیٹ میں گراوٹ کا سلسلہ جاری رہا۔
گزشتہ ہفتے بینچ مارک 100 انڈیکس 546.47 پوائنٹس یا 0.45 فیصد کی کمی سے 119,102.67 پوائنٹس پر بند ہوا۔
بین الاقوامی سطح پر ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں پیر کو قدرے بہتری دیکھی گئی، جب کہ یورو کی قدر میں اضافہ ہوا، جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یورپی یونین کی اشیاء پر 50 فیصد ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی کو اچانک ایک ماہ سے زیادہ کے لیے مؤخر کردیا، یہ اُن کی غیر متوازن تجارتی پالیسی کے تحت ایک اور عارضی مہلت سمجھی جا رہی ہے۔
اتوار کو صدر ٹرمپ نے تجارتی مذاکرات کی ڈیڈ لائن کو یکم جون سے بڑھا کر 9 جولائی تک کرنے پر رضامندی ظاہر کی جب یورپی کمیشن کی صدر نے کہا کہ یورپی اتحاد کو ایک اچھے معاہدے تک پہنچنے کے لیے مزید وقت درکار ہے۔
گزشتہ ماہ بیشتر اثاثوں میں شدید فروخت کے بعد مارکیٹ کے رجحانات میں کچھ استحکام آ یا کیونکہ صدر ٹرمپ نے معیشت کو نقصان پہنچانے والے ٹیرف عارضی طور پر روک دیے تھے اور سرمایہ کار برطانیہ کے ساتھ معاہدے اور چین کے ساتھ عارضی سمجھوتے کے بعد نئے تجارتی معاہدوں کیلئے پُر امید تھے۔
تاہم ٹرمپ کی حالیہ پالیسی اقدامات سرمایہ کاروں کو یہ یاد دلانے کے لیے کافی ہیں کہ حالات کس قدر تیزی سے بدل سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کار اب ممکنہ امریکی کساد بازاری اور اس کے نتیجے میں عالمی سست روی کو مدِنظر رکھتے ہوئے اپنا سرمایہ امریکہ سے نکال کر یورپ اور ایشیا کی جانب منتقل کررہے ہیں۔
ایپل بھی جمعہ کو تجارتی کشمکش کی زد میں آ گیا، جب صدر ٹرمپ نے امریکی صارفین کی جانب سے خریدے گئے تمام درآمد شدہ آئی فونز پر 25 فیصد ٹیکس عائد کرنے کی دھمکی دی۔
پیر کو ایم ایس سی آئی کا ایشیا پیسیفک کے جاپان کے علاوہ حصص کا سب سے وسیع انڈیکس 0.12 فیصد کی معمولی بڑھوتری کے ساتھ اوپر گیا جبکہ جاپان کا نکّی انڈیکس بھی تھوڑا سا بہتر رہا۔
انٹر بینک مارکیٹ میں پیر کے روز پاکستانی روپے کی قدر میں معمولی کمی دیکھی گئی، جہاں امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپیہ 0.03 فیصد کم ہو کر 282.06 روپے پر بند ہوا، یعنی روپے کی قدر میں 9 پیسے کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
آل شیئر انڈیکس میں کاروباری حجم نمایاں طور پر بڑھ کر 635.53 ملین شیئرز تک پہنچ گیا، جو گزشتہ کاروباری سیشن میں 338.00 ملین ریکارڈ کیا گیا تھا۔
حصص کی مجموعی مالیت بھی قدرے بڑھ کر 18.58 ارب روپے ہو گئی، جو گزشتہ سیشن میں 18.51 ارب روپے تھی۔
کاروباری حجم کے لحاظ سے کے الیکٹرک لمیٹڈ سرِفہرست رہی، جس کے 246.93 ملین شیئرز کا لین دین ہوا۔ اس کے بعد ورلڈ کال ٹیلی کام کے 36.72 ملین اور ٹیلی کارڈ لمیٹڈ کے 30.01 ملین شیئرز کا کاروبار ہوا۔
مجموعی طور پر پیر کے روز 467 کمپنیوں کے شیئرز کا لین دین ہوا، جن میں سے 188 کمپنیوں کے حصص کی قیمت میں اضافہ، 235 میں کمی جبکہ 44 کی قیمتیں مستحکم رہیں۔