فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے خیبر پختونخوا ریجن کے کوآرڈینیٹر نے وزیرِاعظم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بجلی کے نرخوں میں 7 روپے فی یونٹ کمی کے اپنے وعدے کو عملی جامہ پہنائیں۔
اتوار کے روز ایف پی سی سی آئی کے علاقائی دفتر پشاور سے جاری بیان میں اکبر خان نے سوات میں شدید اور غیر منصفانہ لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا بھی مطالبہ کیا، جس کے باعث نہ صرف روزمرہ زندگی متاثر ہو رہی ہے بلکہ علاقائی معیشت بھی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔
انہوں نے وزیرِاعظم کی جانب سے بجلی کے نرخوں میں سات روپے فی یونٹ کمی کے اعلان پر عملدرآمد نہ ہونے پر شدید مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزیرِاعظم نے بجلی کے نرخوں میں کمی کا وعدہ کیا تھا، لیکن یہ وعدہ پورا نہیں ہو سکا، جس سے کاروباری برادری میں مایوسی اور بددلی پیدا ہو رہی ہے۔
انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اربوں روپے کی لاگت سے اشتہارات جاری کیے گئے، مگر عملی اقدامات صفر کے برابر ہیں۔
اکبر خان نے یہ بھی کہا کہ متعلقہ ادارے بجلی چوری کی روک تھام میں بھی ناکام رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایک طرف مہنگی بجلی ہے اور دوسری طرف پٹرول کی بڑھتی قیمتوں نے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ کسی بھی سطح پر کوئی ریلیف نہیں دیا جا رہا۔
اکبر خان نے مطالبہ کیا کہ بجلی کے بلوں میں ”سلیب سسٹم“ ختم کیا جائے اور مفت بجلی کی سہولت کا خاتمہ کیا جائے، کیونکہ ان پالیسیوں کا بوجھ ایمانداری سے بل ادا کرنے والے صارفین پر پڑ رہا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025