پاکستان

مالی سال 26-2025 کے بجٹ میں 1.079 ٹریلین روپے کی بجلی سبسڈی کا امکان

  • ان اعداد و شمارکو حکومت کی اقتصادی ٹیم اور انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) مشن کے درمیان حالیہ ملاقاتوں میں حتمی شکل دی گئی
شائع May 26, 2025 اپ ڈیٹ May 26, 2025 08:01am

حکومت مالی سال 26-2025 کے لیے بجلی کے شعبے کے لیے 1.079 ٹریلین روپے کی سبسڈی مختص کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جو کہ مالی سال 25-2024 کے لیے مختص 1.190 ٹریلین روپے کے مقابلے میں کم ہے۔ ان اعداد و شمارکو حکومت کی اقتصادی ٹیم اور انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) مشن کے درمیان حالیہ ملاقاتوں میں حتمی شکل دی گئی۔

فنانس ڈویژن نے بجٹ کی تیاری کے لیے بجلی کے شعبے کے لیے ری کرنٹ بجٹ کی مد میں سبسڈی کی عبوری تخمینی حد (انڈیکیٹو بجٹ کی حدیں - آئی ڈی سی) 636.136 ارب روپے مقرر کی ہے، جو پہلے 400 ارب روپے تھی۔

چونکہ مالی سال 25-2024 کے لیے سبسڈی کی نظرثانی شدہ رقم کی تفصیلات دستیاب نہیں، اس لیے یہ واضح نہیں کہ پاور ڈویژن نے مکمل رقم خرچ کر لی ہے یا اس میں کوئی انحراف ہوا ہے۔

فنانس ڈویژن نے پاور ڈویژن کو ہدایت کی ہے کہ وہ بجٹ تخمینوں کی تیاری کے دوران تمام پرنسپل اکاؤنٹنگ افسران (پی اے اوز)، محکموں اور اداروں کے سربراہان کے لیے جاری کردہ لازمی ہدایات پر مکمل طور پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔

ان ہدایات میں شامل نکات درج ذیل ہیں:(i) پی اے اوز کو پرفارمنس بیسڈ بجٹنگ اور اخراجات سے متعلق پبلک فنانشل مینجمنٹ (پی ایف ایم) ایکٹ 2019 کے تقاضوں کے مطابق واضح منصوبہ بندی کرنی ہوگی؛(ii) پی اے اوز کو فنانشل مینجمنٹ اینڈ پاورز آف پی اے اوز ریگولیشنز 2021 اور بجٹ کال سرکولر (بی سی سی) برائے 26-2025 کی مکمل پابندی کرنی ہوگی؛(iii) پی ایف ایم ایکٹ 2019 کی دفعہ 30 اور کیش مینجمنٹ و ٹی ایس اے رولز 2024 کے مطابق سنگل اکاؤنٹ (ٹی ایس اے) اپنانے کو یقینی بنایا جائے؛(iv) ماحولیاتی لحاظ سے حساس بجٹ / گرین بجٹنگ کے لیے موجودہ اور ترقیاتی بجٹ دونوں کی معلومات فارم-IV کے مطابق فراہم کی جائیں؛(v) پرفارمنس بیسڈ بجٹنگ (فارم-I) میں صنفی اور ماحولیاتی حوالے سے کلیدی کارکردگی کے اشاریے (کے پی آئیز) الگ سے درج کیے جائیں؛(vi) پی اے اوز، محکموں اور اداروں کے سربراہان مالی سال 26-2025 کے لیے سہ ماہی بجٹ تخمینے جمع کرائیں؛(vii) پی اے اوز بجٹ تخمینوں کی روشنی میں اخراجات کریں اور کسی اضافی فنڈنگ کی توقع پر خرچ نہ کریں؛(viii) کفایت شعاری کے اقدامات پر مکمل عملدرآمد ہو اور ممنوعہ اخراجات کی مد میں کوئی رقم مختص نہ کی جائے؛ اگر کی جائے تو وہ صرف کفایت شعاری کمیٹی کی منظوری سے ہوگی؛(ix) غیر ملکی گرانٹس اور لیز کے بعد کی گئی منظوری کے مطابق مکمل روپے کی کوریج اندرونی فنڈز سے ہی یقینی بنائی جائے۔

فنانس ڈویژن نے حال ہی میں پاور ڈویژن کو آگاہ کیا ہے کہ مالی سال 26-2025 کے لیے بجلی کے شعبے کی سبسڈی مختص کرنے کا انحصار دستیاب مالی گنجائش پر ہوگا۔

پاور ڈویژن نے ”ایم ای ایف پی فار ای ایف ایف 27-2024 – سرکلر ڈیٹ ٹارگٹ برائے مالی سال 26-2025“ کے عنوان سے ایک خط کے ذریعے آئندہ مالی سال کے لیے سرکلر ڈیٹ کے خلا کو پر کرنے کے لیے سبسڈی کی عبوری رقم سے متعلق معلومات طلب کی تھیں۔

فنانس ڈویژن کے کارپوریٹ فنانس وِنگ کے مطابق بجلی کے شعبے کے لیے بجٹ کی حتمی منظوری روایتی بجٹ سازی کے طریقہ کار کے مطابق، بجٹ و سی ایف ونگز کے مشورے سے اور مالی گنجائش کو مدنظر رکھتے ہوئے دی جائے گی۔

فنانس منسٹری نے پاور ڈویژن کی جانب سے 224 ارب روپے کی ایڈوانس سبسڈی کے اجرا کی تجویز کی توثیق نہیں کی۔ وزارت کا مؤقف تھا کہ بجلی کے شعبے کے نقدی بحران کے حل کے لیے پہلے ہی خاطر خواہ فنڈز مہیا کیے جا چکے ہیں۔

25 مارچ 2025 کو پاور ڈویژن نے ایک مسودہ سمری فنانس منسٹری کو بھجوائی تھی تاکہ اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) میں ایڈوانس سبسڈی کے اجرا کی منظوری لی جا سکے۔ تاہم، فنانس ڈویژن نے جواب دیا کہ مختلف بجٹ مدات میں پہلے ہی پاور ڈویژن کی ضروریات کے مطابق 633 ارب روپے مہیا کیے جا چکے ہیں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025