ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ وزارت خزانہ نے وزارت منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات سے کہا ہے کہ وہ 50 ارب روپے پاور ڈویژن کو فراہم کرے تاکہ اتنی ہی مالیت کی ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ (ٹی ایس جی) حاصل کی جا سکے، تاکہ سبسڈی کی اضافی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔

حال ہی میں کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے پاور ڈویژن کو گردشی قرض کے اہداف کے حصول کے لیے، جو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ طے پائے ہیں، پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) سے 50 ارب روپے سبسڈی کے طور پر مختص کرنے کی منظوری دی۔

پاور ڈویژن نے 5 مئی 2025 کو ای سی سی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ وزیر اعظم آفس نے 13 مئی 2024 کو پاور ڈویژن کو آئندہ مالی سال 25-2024 کے بجٹ میں بلوچستان میں ٹیوب ویلوں کی شمسی توانائی پر منتقلی (سولرائزیشن) سمیت آف گرڈ حل کے لیے منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت دی۔

بعد ازاں وفاقی وزیر برائے توانائی اور وزیر اعلیٰ بلوچستان کی زیر صدارت مشاورتی اجلاس منعقد ہوئے، جن میں وفاقی وزیر تجارت، وزیر مملکت برائے توانائی، بلوچستان کے صوبائی وزرا، سیکریٹری پاور ڈویژن، چیف سیکریٹری بلوچستان اور توانائی کے ماہرین نے شرکت کی۔

ان سفارشات کو 2 فروری 2024 کو وزیراعظم کے سامنے پیش کیا گیا، جس میں تقریباً 27,000 زرعی ٹیوب ویلز کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا، بشرطیکہ ان کا گرڈ کنکشن منقطع کر دیا جائے، اور ہر قانونی کنکشن والے ٹیوب ویل کے لیے 20 لاکھ روپے تک کی مالی معاونت فراہم کی جائے۔ اس منصوبے پر آنے والے 55 ارب روپے کے تخمینی اخراجات وفاقی حکومت اور حکومت بلوچستان 70:30 کے تناسب سے برداشت کریں گے۔

اسی کے تحت ایک تفصیلی معاہدہ، عمل درآمد کے طریقہ کار (ایس او پیز) اور اسٹیرنگ کمیٹی کے ساتھ، 8 جولائی 2024 کو پاور ڈویژن کے سیکریٹری اور چیف سیکریٹری بلوچستان کے درمیان دستخط ہوا۔

کابینہ کی منظوری 31 جولائی 2024 کو حاصل کی گئی۔ اب تک وفاقی حکومت کی جانب سے وزیر اعظم کے زرعی ٹیوب ویلز کی شمسی توانائی کے قومی پروگرام کے تحت، وزارت قومی فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ کے بجٹ سے ٹی ایس جی کے ذریعے 14 ارب روپے جاری کیے جا چکے ہیں۔

پاور ڈویژن نے مزید بتایا کہ باقی 24.5 ارب روپے ’اضافی سبسڈی‘ کی مد میں فراہم کیے جائیں گے، جیسا کہ وزارت خزانہ نے تجویز کیا ہے۔ اس حوالے سے نشاندہی کی گئی کہ جون 2025 تک 337 ارب روپے کے نظرثانی شدہ سرکلر ڈیٹ فلو ہدف کے حصول کے لیے، پاور ڈویژن کو 1.229 کھرب روپے کی مکمل سبسڈی استعمال کرنا ہوگی۔

یہ بھی بتایا گیا کہ وفاقی کابینہ نے 8 جولائی 2024 کو ٹیرف ڈیفرینشل سبسڈی کی اضافی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے پی ایس ڈی پی سے 50 ارب روپے کو دوبارہ مختص کرنے کی منظوری دی تھی۔

یہ رقم بھی پاور سیکٹر کے لیے مختص 1.229 کھرب روپے کے مجموعی سبسڈی پیکج کا حصہ ہے۔ اس کے مطابق پاور ڈویژن نے مؤقف اختیار کیا کہ فی الحال یہ رقم وزارت خزانہ کی تجویز کے مطابق بجٹ سے فراہم کی جا سکتی ہے، تاہم اگر مالی سال کے اختتام پر کمی واقع ہوئی تو یہ رقم جون 2025 میں پاور ڈویژن کو واپس دی جائے تاکہ آئی ایم ایف سے طے شدہ گردشی قرض اہداف پورے کیے جا سکیں۔

پاور ڈویژن نے دو تجاویز پیش کیں:1۔ وزارت خزانہ کو ہدایت دی جائے کہ وہ پی ایس ڈی پی سے 50 ارب روپے پاور سبسڈی کے لیے ڈیمانڈ نمبر.45 میں منتقل کرے، جیسا کہ کابینہ نے 8 جولائی 2024 کو منظوری دی۔2۔ 24.5 ارب روپے کی ٹی ایس جی ڈیمانڈ نمبر.45 سے پاور ڈویژن کی ڈیمانڈ نمبر .33 میں منتقل کی جائے تاکہ بلوچستان میں زرعی ٹیوب ویلز کی سولرائزیشن پر عمل درآمد ہو سکے۔

بحث کے دوران یہ بتایا گیا کہ سولرائزیشن کا فیصلہ گزشتہ سال جولائی میں ہوا تھا، اس لیے بجٹ میں رقم مختص نہیں کی جا سکی اور اب یہ رقم ٹی ایس جی کے ذریعے طلب کی جا رہی ہے، جو اس اسکیم میں وفاقی حکومت کے حصے کی مکمل ادائیگی سمجھی جائے گی۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025