مالی سال 2025-26 کے وفاقی بجٹ کے اعلان کے موقع پر ٹولا ایسوسی ایٹس جو کہ ٹیکس ایڈوائزری اور کنسلٹنسی فرم ہے نے دفاعی بجٹ کو 2.8 کھرب روپے تک بڑھانے کی تجویز دی ہے جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 32 فیصد اضافہ ہے جس کی وجہ پڑوسی ملک بھارت کے ساتھ جنگ جیسے حالات ہیں۔
ٹیکس ایڈوائزری فرم نے اپنی رپورٹ ہفتے کو جاری کرتے ہوئے یہ تجویز پیش کی۔
رپورٹ کے مطابق، مالی سال 2025 کے لیے دفاعی بجٹ 2,122 ارب روپے مقرر کیا گیا تھا جبکہ مارچ 2025 تک حقیقی اخراجات 1,424 ارب روپے رہے۔ تاہم، پڑوسی ملک کے ساتھ جاری جنگی صورتحال کے باعث، مالی سال 2025 کے چوتھے سہ ماہی میں دفاعی اخراجات 50 فیصد تک بڑھ سکتے ہیں۔
فرمز نے نوٹ کیا کہ پچھلے تین سال میں دفاعی اخراجات کا 36 فیصد حصہ مالی سال کے آخری سہ ماہی میں خرچ کیا گیا ہے۔
موجودہ علاقائی کشیدگی اور پاکستان کی دفاعی تیاری کو یقینی بنانے کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جون 2025 تک کل دفاعی اخراجات 2.4 ٹریلین روپے تک پہنچ جائیں گے۔
رپورٹ میں مالی سال 2026 کے دفاعی بجٹ میں 32 فیصد اضافے کے ساتھ 2.8 ٹریلین روپے تک توسیع کی سفارش کی گئی ہے، جو پڑوسی ملک کے ساتھ جاری کشیدگی اور فوج میں نئی بھرتیوں کی روشنی میں ملک کی دفاعی استعداد کار کو مضبوط بنانے کے لیے ایک لازم و ملزوم قدم قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ میں ٹولا نے کہا کہ یہ بجٹ ملکی معیشت کے لیے اصلاحات کا ایک نادر اور سنہری موقع ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ ایک سنہری موقع ہے جو ہماری معیشت کو نئے راستے پر ڈالنے کا طاقتور محرک ثابت ہوگا، اور آنے والا بجٹ استحکام اور ترقی کے درمیان بہترین توازن قائم کرنے پر مرکوز ہونا چاہیے۔
لہٰذا معاشی اور مالی اصلاحات ایسے مؤثر انداز میں ترتیب دی جانی چاہئیں جو معیشت کو مسلسل ترقی کے راستے پر گامزن کرے۔
ٹولا نے مالی سال 26 کیلئے بجٹ اخراجات کا تخمینہ تقریباً 17.2 کھرب روپے لگایا ہے، جو مالی سال 25 میں حکومت کی جانب سے مقرر کردہ 18.9 کھرب روپے سے کم ہے۔
اخراجات میں کمی کا سبب مارک اپ ادائیگیوں میں متوقع کمی ہے، جو مالی سال 26 میں تقریباً 7.5 کھرب روپے رہنے کا امکان ہے۔
ٹیکس ایڈوائزری نے مالی سال 26 کے لیے وفاقی ترقیاتی بجٹ (پی ایس ڈی پی) کا اندازہ 950 ارب روپے لگایا ہے جو مالی سال 25 کے بجٹ شدہ 1.4 کھرب روپے سے کافی کم ہے۔
رپورٹ میں مالی سال 26 کے لیے ایف بی آر کی آمدنی کا تخمینہ 13.5 کھرب روپے لگایا گیا ہے۔
ٹیکس ایڈوائزری کے مطابق اگر ایف بی آر مالی سال 25 میں تقریباً 11.9 کھرب روپے جمع کرتا ہے اور آئندہ مالی سال میں مہنگائی کی شرح 10 فیصد اور جی ڈی پی کی شرح نمو 3 فیصد رہتی ہے تو ایف بی آر کی ٹیکس آمدنی 13.5 کھرب روپے تک محدود رہ سکتی ہے۔