عصرِ حاضر میں دو طرفہ تعلقات میں شاید ہی کوئی رشتہ ایسا پائیدار اور غیرمتزلزل ہو جیسا کہ پاکستان اور چین کے درمیان ہے۔

جب اس ہفتے دونوں ممالک نے سفارتی تعلقات کی 74ویں سالگرہ منائی، تو اس موقع پر خاموش علامتی پیغام کو نظر انداز کرنا ممکن نہ تھا۔ یہ صرف رسمی آداب یا جھنڈوں کی تقریب نہیں تھی؛ بلکہ یہ ایک ایسی دوستی کا اظہار تھا جو وقت کی کسوٹی پر پرکھی گئی، بحرانوں میں نکھری اور جیسا کہ بارہا دہرایا گیا مگر کبھی مبالغہ نہ سمجھا گیا، ”فولاد میں ڈھلی“۔

یکم اکتوبر 1949 کو چیئرمین ماؤ زے تنگ نے عوامی جمہوریہ چین کے قیام کا اعلان کیا اور جنوری 1950 میں پاکستان ان اولین ممالک میں شامل تھا جنہوں نے چین کو تسلیم کیا۔ اُس وقت یہ فیصلہ جغرافیائی سیاست کے لحاظ سے نہایت جرات مندانہ اور بصیرت افروز تھا، جو ایک ایسے تعلق کا آغاز ثابت ہوا جس نے بعد میں دونوں ممالک کی عالمی حیثیت کو نئی جہت دی۔

دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات 21 مئی 1951 کو قائم ہوئے۔ سرد جنگ کے تاریک ترین دور میں پاکستان نے چین کی سفارتی تنہائی کو ختم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا، خصوصاً 1971 میں ہنری کسنجر کے تاریخی دورۂ بیجنگ کی راہ ہموار کر کے، جس نے امریکہ اور چین کے درمیان مصالحت کا دروازہ کھولا۔ یہ ایک ایسا غیر معمولی قدم تھا جس نے پاکستان کو محض چین کا دوست نہیں بلکہ دنیا سے جوڑنے والا ایک پل بنا دیا۔

بیجنگ یہ سب نہیں بھولا۔ گزشتہ دہائیوں میں چین نے بارہا اس دوستی کا حق ادا کیا ہے۔ کثیرالملکی فورمز پر مستقل سفارتی حمایت سے لے کر طویل المدتی معاشی سرمایہ کاری تک، پاک چین تعلقات اصول سے عمل، اور علامتی یکجہتی سے عملی فوائد تک کا سفر طے کر چکے ہیں۔ ہر اس نازک مرحلے پر، چاہے وہ پاکستان کے جوہری تجربات ہوں یا دہشت گردی کے خلاف بدلتی ہوئی حکمتِ عملی، چین نے غیر متزلزل حمایت فراہم کی ہے۔ یہ وہ ریکارڈ ہے جس پر دنیا کے چند ہی ممالک فخر کر سکتے ہیں، اگر کوئی کر سکے تو۔

اس دوستی کا موجودہ مرحلہ بھی کم اہم نہیں۔ اگر تاریخ نے اس تعلق کی بنیاد رکھی، تو چین-پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) نے اس پر ایک پائیدار عمارت کھڑی کر دی ہے۔ 2015 میں چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کے تحت شروع ہونے والا یہ منصوبہ صرف سڑکوں، بندرگاہوں اور بجلی گھروں کا مجموعہ نہیں، بلکہ پاکستان کے مستقبل کا تعمیراتی نقشہ ہے۔ گوادر کی چمکتی روشنیوں سے لے کر بلوچستان سے گزرتی شاہراہوں تک، خصوصی اقتصادی زونز سے لے کر جدید توانائی منصوبوں تک، سی پیک ترقی کا وہ ماڈل ہے جس میں اقتصادی ترقی اور تزویراتی حکمتِ عملی ایک ساتھ جلوہ گر ہیں۔

صرف سی پیک کو ایک بنیادی ڈھانچے کا منصوبہ کہنا انتہائی سادہ لوحی ہوگی۔ یہ پاکستان کا دہائیوں کا سب سے وسیع قومی تبدیلی کا منصوبہ ہے۔ نئے گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ، خنجراب پاس کا سال بھر کھلا رہنا، روزگار کے منصوبوں اور ابھرتے ہوئے شعبوں جیسے کان کنی اور صاف توانائی کی حمایت ، یہ سب امداد نہیں بلکہ مشترکہ خوشحالی کے اقدامات ہیں۔ اور اس بار یہ سب ایسے طریقے سے کیا جا رہا ہے جس میں عالمی امداد کے ساتھ جڑی شرائط یا تکبر شامل نہیں۔

چین کی حمایت صرف فولاد اور کنکریٹ تک محدود نہیں۔ خاص طور پر حالیہ بھارتی کشیدگی کے دوران، بیجنگ نے ہر موقع پر اسلام آباد کے ساتھ کھڑے رہ کر خطے اور دنیا کو یہ پیغام دیا کہ تزویراتی شراکت داری صرف امن کے وقت نہیں بنتیں بلکہ بحرانوں میں بھی پرکھی جاتی ہیں۔ ایسے وقت میں جب بہت سے ممالک اپنی دوستی کو مفاد یا پابندی کی بنیاد پر تول رہے ہیں، چین کی مستقل مزاجی خاص طور پر قابل تعریف ہے۔

یقیناً ابھی کام باقی ہے۔ سی پیک کا وژن تبھی مکمل طور پر کامیاب ہوگا جب اسے مقامی حکومتوں کی شفافیت، کارکنوں خصوصاً چین کے انجینئرز اور تکنیکی عملے کی حفاظت اور پاکستان کی معیشت کے لیے اس کے فوائد کو زیادہ سے زیادہ کرنے کی ضمانت ملے۔ خاص طور پر بلوچستان میں سیکورٹی اب بھی ایک چیلنج ہے لیکن یہ مسائل قابل انتظام ہیں ناکہ ایسے اسباب جو اس عظیم منصوبے کو روک دیں۔

اس دوستی کی خاص بات اس کی خلوص نیت ہے۔ ایسی کم ہی دکھاوے کی محبت نظر آتی ہے جو دیگر کئی نام نہاد اتحادوں کی پہچان ہوتی ہے۔ چین اور پاکستان ایک دوسرے کو صرف رسمی باتوں سے خوش نہیں کرتے؛ وہ اپنے کام کی بات کرتے ہیں، خاموشی سے، موثر طور پر اور اکثر عالمی حالات کے بدلتے ہوئے رجحانات کے برعکس۔

رواں ہفتے منعقدہ ثقافتی پروگرام جس کا موضوع ”چائے برائے ہم آہنگی“ تھا، اس تعلق کی اصل روح کو بخوبی اجاگر کرتا ہے۔ ایک ایسی دنیا میں جو بڑھتی ہوئی سودے بازی اور دکھاوے کی سفارت کاری سے معمور ہے، پاکستان چین کا رشتہ فرحت بخش، بے ساختہ اور پُر اثر ہے۔ یہ تعلق مستحکم، بامقصد اور مضبوطی سے جڑا ہوا ہے۔ پاکستان جیسے ملک کے لیے، جو اکثر ایک غیر مستحکم علاقائی اور عالمی ماحول میں راہ تلاش کر رہا ہے، ایسی پر اعتماد دوستی محض اطمینان بخش نہیں بلکہ ایک تزویراتی ضرورت بھی ہے۔

چوہتر سال بعد یہ محض دوستی نہیں رہی۔ یہ ایک مضبوط ستون ہے۔ ایک فولادی پختہ اتحاد، نہ صرف ریاستوں کا بلکہ مشترکہ منزلوں کا۔ اور ایک ایسی دنیا میں جو رقابتوں سے زنگ آلود ہوتی جا رہی ہے، یہ حقیقت جشن منانے کے لائق ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025