بجٹ 26 : آئی ایم ایف کا مذاکرات جاری رکھنے کا اعلان
- جی ڈی پی کے 1.6 فیصد کے پرائمری سرپلس کے ہدف کے ساتھ مالیاتی استحکام کے عزم کا اعادہ
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے مشن نے نیتھن پورٹر کی سربراہی میں اسلام آباد کا دورہ مکمل کرلیا، جس میں معاشی صورتحال، پروگرام پر عملدرآمد اور مالی سال 2026 کی بجٹ حکمتِ عملی پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ آئی ایم ایف نے نئے مالی سال کے بجٹ پر مذاکرات جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے ،واضح رہے کہ یہ بجٹ 10 جون کو پیش کیا جائے گا۔
نیتھن پورٹر نے ایک بیان میں کہا کہ ہم نے حکومت کے ساتھ مالی سال 2026 کے بجٹ، مجموعی معاشی پالیسیوں اور جاری اصلاحاتی ایجنڈے پر انتہائی تعمیری، مفصل اور مثبت گفتگو کی، جو کہ 2024 کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی اور 2025 کے ریزیلیئنس اینڈ سسٹین ایبلٹی فسیلٹی پروگرامز کے تحت جاری ہیں۔
حکام نے مالی سال 2026 میں جی ڈی پی کے 1.6 فیصد کے پرائمری سرپلس کے ہدف کے ساتھ مالیاتی استحکام کے عزم کا دوبارہ اعادہ کیا اور اس بات کو یقینی بنانے کا وعدہ کیا ہے کہ سماجی اور ترجیحی اخراجات کا تحفظ ہر حال میں برقرار رکھا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات کا محور محصولات میں اضافے کے اقدامات پر رہا، جن میں ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا اور ٹیکس ادائیگی میں بہتری لانا شامل ہے جبکہ اخراجات کو ترجیحی بنیادوں پر ترتیب دینا بھی زیر غور رہا۔ مالی سال 2026 کے بجٹ پر حتمی اتفاق رائے کے لیے مذاکرات آئندہ چند روز میں جاری رہیں گے۔
آئی ایم ایف نے کہا کہ بات چیت میں توانائی شعبے میں جاری اصلاحات پر بھی غور کیا گیا جن کا مقصد مالی استحکام کو بہتر بنانا اور پاکستان کے مہنگے بجلی سیکٹر کے اخراجات کو کم کرنا ہے، مزید ساختی اصلاحات پائیدار اقتصادی ترقی کو فروغ دیں گی اور کاروبار و سرمایہ کاری کے لیے مساوی مواقع فراہم کریں گی۔
اس کے علاوہ حکام نے مضبوط اور مستحکم معاشی پالیسی سازی اور مالی حفاظتی اقدامات کو یقینی بنانے کے عزم کا بھرپور اعادہ کیا، مہنگائی پر قابو پانے کے لیے سخت مانیٹری پالیسی جاری رکھنے اور مہنگائی کو 5 سے 7 فیصد کی سطح پر برقرار رکھنے پر زور دیا گیا۔
مزید کہا گیا ہے کہ پاکستانی حکام سے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے اور فاریکس مارکیٹ کو فعال رکھنے پر بات چیت ہوئی، جبکہ شرح تبادلہ میں لچک برقرار رکھنے پر زور دیا گیا۔
مشن نے وفاقی اور صوبائی حکام کا ان کی مہمان نوازی، تعمیری مذاکرات اور مضبوط تعاون و پالیسیوں کے عزم پر شکریہ ادا کیا۔