فری لانس سروسز سے سالانہ غیر ملکی زرمبادلہ آمدنی زبردست رفتار سے بڑھ رہی ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ موجودہ مالی سال میں یہ 500 ملین ڈالر کے ہدف کو عبور کر کے قومی خزانے میں اہم اور موثر حصہ ڈالے گی۔

جیسا کہ عالمی سطح پر کام کے انداز میں تیز رفتار تبدیلی آرہی ہے،پاکستان فری لانسنگ معیشت میں غیر معمولی ترقی کررہا ہے۔ اپنی آبادی کا 70 فیصد سے زائد حصہ 30 سال سے کم عمر ہونے کی وجہ سے، ملک تیزی سے ڈیجیٹل ٹیلنٹ کا مرکز بنتا جارہا ہے۔

چیئرمین پاکستان فری لانسرز ایسوسی ایشن (پی اے ایف ایل اے) ابراہیم امین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ فری لانسرز نہ صرف پاکستان کی معیشت کے استحکام میں ایک اہم کردار ادا کر رہے ہیں بلکہ خاص طور پر بار بار پیش آنے والے تجارتی اور کرنسی کے عدم توازن جیسے چیلنجز کا مؤثر حل بھی بن چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ محض انفرادی کامیابیاں نہیں، بلکہ ایک پائیدار اور وسعت پذیر غیر ملکی آمدنی ہے جو پاکستان میں بغیر فیکٹریوں، خام مال یا روایتی برآمدات کے داخل ہو رہی ہے۔ یہی دانشمندانہ معاشی حکمت عملی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان فری لانسرز ایسوسی ایشن فری لانسرز کو معیشت کی ترقی میں موثر کردار ادا کرنے کے لیے مکمل سپورٹ فراہم کررہی ہے اور اس ضمن میں وفاقی و صوبائی حکومتوں کے ساتھ قومی پالیسی فریم ورک کے قیام کے لیے جاری مذاکرات میں مصروف ہے۔ ان مذاکرات میں ٹیکس مراعات، آسان اکاؤنٹ رجسٹریشن، رقوم کی منتقلی پر کم ٹرانزیکشن فیس اور فری لانسرز کے لیے قانونی تحفظات جیسے اہم تجاویز شامل ہیں۔

ڈیجیٹل انقلاب، انٹرنیٹ کی بڑھتی ہوئی رسائی، اور عالمی فری لانسنگ پلیٹ فارمز جیسے اپ ورک، فائیور اور فری لانسر ڈاٹ کام کی بدولت، اب لاکھوں پاکستانی دنیا بھر میں خدمات فراہم کررہے ہیں، چاہے وہ امریکہ اور برطانیہ ہوں یا مشرق وسطیٰ اور یورپ ہو۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق فری لانس ایکسپورٹس نے پچھلے مالی سال میں سرکاری طور پر 400 ملین ڈالر سے زائد کی آمدنی حاصل کی اور نوجوانوں کی ریموٹ ورک فورس میں شمولیت کے ساتھ اس میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ ابراہیم امین نے کہا کہ موجودہ شرح نمو کے ساتھ ہم توقع کررہے ہیں کہ اس مالی سال کے دوران فری لانس ایکسپورٹس 500 ملین ڈالر کی حد عبور کر جائیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ زبردست آمدنی نہ صرف ہزاروں خاندانوں کی معاشی مدد کررہی ہے بلکہ پاکستان کو آئی ٹی، ڈیزائن، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور مواد سازی کے شعبوں میں عالمی سطح پر ایک معتبر اور مضبوط ڈیجیٹل شناخت بھی دے رہی ہے۔

اس زبردست رفتار کے باوجود ابراہیم امین نے کئی بنیادی مسائل کی نشاندہی کی، جن میں سب سے اہم بین الاقوامی ادائیگی کے گیٹ وے جیسے پے پال تک رسائی کا فقدان، غیر واضح ٹیکس پالیسیاں اور فری لانسرز کے لیے مخصوص بینکنگ مصنوعات کا عدم موجود ہونا شامل ہیں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025