سازگار کا نیو انرجی وہیکلز کا اجرا مالی سال 2026 تک متوقع، سرمایہ کاری 11.5 ارب روپے تک بڑھا دی گئی
سازگار انجینئرنگ ورکس (سازای ڈبلیو) امکان ظاہر کر رہی ہے کہ وہ مالی سال 2026 کی آخری ششماہی کے دوران نیو انرجی وہیکلز (این ای ویز) پاکستانی مارکیٹ میں متعارف کرائے گی جبکہ کمپنی نے اپنی ان نئی برقی گاڑیوں کی پیداواری سہولت کے لیے سرمایہ جاتی اخراجات میں 155 فیصد اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ تازہ معلومات جمعے کے روز ایک تجزیہ کاروں کی بریفنگ میں فراہم کی گئیں، جس میں مختلف بروکریج ہاؤسز نے شرکت کی۔
جے ایس گلوبل، جو اس کارپوریٹ بریفنگ میں شریک تھا، نے جمعے کو اپنی رپورٹ میں بتایا کہ کمپنی نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ اس نے اپنی نئی نیو انرجی وہیکل مینوفیکچرنگ/اسمبلی سہولت اور دیگر لاگت میں کمی سے متعلق منصوبوں کے لیے سرمایہ جاتی اخراجات کی لاگت کو 4.5 ارب روپے سے بڑھا کر 11.5 ارب روپے کر دیا ہے، ان منصوبوں میں موجودہ پینٹ شاپ کی توسیع، نئی گودام سہولیات کی تعمیر، اور5.7 میگاواٹ سولر پاور پلانٹ کی تنصیب شامل ہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ نیو انرجی وہیکلز کا پہلا بیچ، جس میں غالباً ORA برانڈ کی گاڑیاں شامل ہوں گی، مالی سال 2026 کی آخری ششماہی میں مارکیٹ میں آنا متوقع ہے۔
او آر اے(ARO)، چین کی آٹوموٹو دیو گریٹ وال موٹرز (جی ڈبلیو ایم) کا ذیلی برانڈ ہے، جو خاص طور پر الیکٹرک گاڑیوں میں مہارت رکھتا ہے۔ جی ڈبلیو ایم دنیا کی آٹوموٹو صنعت کا ایک نمایاں کھلاڑی ہے، جس کے پورٹ فولیو میں معروف برانڈز شامل ہیں جیسے آورا ، حاوال اور ٹینک، نیز جدید ٹیکنالوجی سے لیس گاڑیوں کی تیاری میں مہارت رکھنے والی کمپنی سیلون میکا ٹیکنالوجی کمپنی لمیٹیڈ نمایاں ہیں۔
جے ایس گلوبل کے مطابق سازگار کی انتظامیہ نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ وہ جی ڈبلیو ایم ٹینک 500( ایک پرتعیش گاڑی) کو پاکستانی مارکیٹ میں متعارف کرانے کا ارادہ رکھتے ہیں اور پی ایچ ای وی(پلگ اِن ہائبرڈ الیکٹرک وہیکل) ماڈلز پر بھی غور کر رہے ہیں۔
اس کے علاوہ کمپنی کی موجودہ یومیہ پیداواری صلاحیت اندازاً 40 یونٹس سے بڑھ کر توسیع کے بعد تقریباً 90 یونٹس روزانہ تک پہنچنے کی توقع ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ سازگار کی انتظامیہ نے آگاہ کیا ہے کہ یہ نئی گاڑیاں گرین فیلڈ اسٹیٹس کے زمرے میں نہیں آئیں گی۔
جے ایس گلوبل کا کہنا تھا کہ سازگار کی ترجیح پیداواری حجم میں اضافہ ہے اور نیو انرجی وہیکل کی نئی لائن اَپ کا اجرا کمپنی کے منافع کے مارجن کو برقرار رکھنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے، بشرطیکہ آنے والی این ای وی پالیسی میں مناسب مراعات فراہم کی جائیں۔