کاروبار اور معیشت

اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ، 100 انڈیکس ہموار سطح پر بند

پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں جمعہ کو خریداری کا رجحان غالب آگیا جس کے نتیجے میں بینچ مارک کے ایس ای 100...
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعے کے کاروباری روز اتار چڑھاؤ کا رجحان رہا اور انڈیکس منفی و مثبت زونز میں رہنے کے بعد ہموار سطح پر بند ہوا

کے ایس ای 100 انڈیکس کو کاروبار کے ابتدائی گھنٹوں میں فروخت کے دباؤ کا سامنا رہا، تاہم بعد ازاں خریداری کار حجان شروع ہونے کی بدولت انڈیکس انٹرا ڈے کی بلند ترین سطح 119,542.52 پوائنٹس تک جا پہنچا۔

تاہم اختتامی گھنٹوں میں فروخت کا رجحان غالب آگیا جس کے سبب انڈیکس انٹرا ڈے کی کم ترین سطح 118,665.26 پوائنٹس تک گر گیا۔

کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 50.37 پوائنٹس یا 0.04 فیصد کی معمولی کمی کے ساتھ 119,102.67 پوائنٹس پر بند ہوا۔

بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکیورٹیز کی پوسٹ مارکیٹ رپورٹ کے مطابق ایم ای بی ایل، اینگرو، پی ایس ای ایل، پی کے جی پی، اے ٹی آر ایل نے انڈیکس میں مثبت کردار ادا کیا اور ان شعبوں کی بدولت بینچ مارک انڈیکس میں 280 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔ اس کے برعکس ایف ایف سی، ایم سی بی، ایس وائی ایس، ماڑی، پی پی ایلِ ایچ بی ایل، ایچ یو بی سی ای ایف ای آر ٹی کے سبب 257 پوائنٹس کی کمی واقع ہوئی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سرمایہ کار آئندہ وفاقی بجٹ میں حکومت کے ممکنہ اعلانات کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کے باعث شیئرز فروخت کررہے ہیں۔

جمعرات کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج مندی پر بند ہوئی کیونکہ سرمایہ کاروں نے آئندہ بجٹ میں آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت ممکنہ نئے ٹیکسز کے خدشات کے پیش نظر محتاط رویہ اختیار کیا، بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 778 پوائنٹس یا 0.65 فیصد کی کمی سے 119,153 پوائنٹس پر بند ہوا۔

بین الاقوامی سطح پر ایشیائی حصص بازاروں میں جمعہ کو کچھ محتاط اضافہ دیکھا گیا کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹیکس بل کے ایوان زیریں سے بمشکل منظور ہونے کے بعد تنزلی کا شکار امریکی ٹریژریز میں خریدار سامنے آئے، اگرچہ قرضوں سے متعلق خدشات بدستور موجود رہے۔

دنیا بھر سے موصول ہونے والے پی ایم آئی ڈیٹا نے ظاہر کیا کہ مئی میں امریکی کاروباری سرگرمیوں میں تیزی آئی، جس کے باعث وال اسٹریٹ میں سیشن کے آغاز میں تیزی دیکھی گئی، تاہم بعد میں فروخت کے دباؤ کے باعث مارکیٹ تقریباً مستحکم سطح پر بند ہوئی۔ اس کے برعکس، یورپ میں کاروباری سرگرمیوں کی مایوس کن کارکردگی نے وہاں کے حصص بازاروں کو نیچے دھکیل دیا۔

نسڈیک فیوچرز اور ایس اینڈ پی 500 فیوچرز دونوں میں استحکام رہا۔

ریپبلکن کے زیرِ کنٹرول امریکی ایوانِ نمائندگان نے معمولی اکثریت سے صدر ٹرمپ کے ٹیکس کٹوتی بل کی منظوری دے دی، جو ان کی انتخابی مہم کے کئی وعدوں کی تکمیل کرے گا، تاہم اس سے آئندہ دہائی میں امریکہ کا 36.2 کھرب ڈالر کا قرضہ 3.8 کھرب ڈالر مزید بڑھ جائے گا۔

ٹریژری ییلڈ خاص طور پر طویل مدتی بانڈز کی شرح، امریکی مالیاتی صورتحال پر گہرے خدشات کے باعث بلند ہوگئے جو بل کی منظوری کے موقع پر مزید تشویش کا باعث بن رہے ہیں، یہ کشیدگی اس وقت اور بڑھ گئی جب موڈی نے پچھلے ہفتے بڑھتے ہوئے قرضے کو بنیاد بنا کر امریکہ کی کریڈٹ ریٹنگ میں تنزلی کردی۔

تاہم 30 سالہ بانڈز کو رات بھر کچھ خریدار ملے، جس کی وجہ سے ان کی قیمتیں خاصی پرکشش ہو گئی ہیں۔

ایم ایس سی آئی کا ایشیا پیسفک میں جاپان کے علاوہ سب سے وسیع اشاریہ جمعہ کو 0.1 فیصد معمولی بڑھا، لیکن ہفتے کے دوران یہ اب بھی 0.4 فیصد کمی کی جانب جا رہا ہے، حالانکہ پچھلے پانچ ہفتوں سے یہ بڑھ رہا تھا۔

دریں اثنا انٹر بینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں 0.03 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور روپیہ 9 پیسے کے اضافے کے بعد 281 روپے 97 پیسے پر بند ہوا۔

آل شیئرز انڈیکس پر حجم گزشتہ روز کے 589.77 ملین سے کم ہوکر کم 338.00 ملین رہ گیا۔

حصص کی مالیت بھی کم ہو کر 18.51 ارب روپے رہ گئی جو گزشتہ سیشن میں 30.81 ارب روپے تھی۔

بگ برڈ فوڈز لمیٹڈ 32.68 ملین شیئرز کے ساتھ والیم لیڈر رہی۔ ورلڈ ٹیلی کام 19.36 ملین شیئرز کے ساتھ دوسرے اور ڈیسکون آکسی کیم 16.05 ملین شیئرز کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہی۔

جمعہ کو کل 459 کمپنیوں کے شیئرز کی تجارت ہوئی، جن میں سے 183 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں اضافہ، 232 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں کمی جبکہ 44 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتیں مستحکم رہیں۔