پاکستان کی حالیہ اقتصادی بحالی کو عالمی سطح پر تسلیم شدہ اصلاحاتی ماڈل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، ورلڈ بینک
ورلڈ بینک کی منیجنگ ڈائریکٹر برائے آپریشنز، اینا بیئرڈے نے جمعرات کو اسلام آباد میں ایک اعلیٰ سطح ملاقات کے دوران وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی حالیہ اقتصادی بحالی کو ’عالمی سطح پر تسلیم شدہ اصلاحاتی ماڈل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اینا بیئرڈے، جو ورلڈ بینک کے اعلیٰ سطح وفد کے ہمراہ پاکستان کے دورے پر ہیں، نے وزیراعظم سے ملاقات کے دوران حکومت پاکستان کی پائیدار پالیسی سازی، سیاسی اتفاق رائے اور عوام کو اولین ترجیح دینے والے ترقیاتی ایجنڈے کی تعریف کی۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی شاندار اور مؤثر قیادت کی بدولت، کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کو اب عالمی سطح پر ’پاکستان ماڈل‘ کہا جا رہا ہے۔
اینا بیئرڈے نے مزید کہا کہ ہمیں امید ہے کہ وزیراعظم کی عملی نفاذ پر توجہ اس فریم ورک کی مسلسل کامیابی کو یقینی بنائے گی۔ یہ صرف پالیسی نہیں، بلکہ کارکردگی ہے۔ انہوں نے اس بات کو نمایاں کیا کہ سیاسی تقسیم کے ماحول میں وزیراعظم شہباز شریف کا مختلف فریقین کو متحد کرنا اور قومی ترقی کو ترجیح دینا ان کی نمایاں خوبی ہے۔
انہوں نے پاکستان کے ساتھ ورلڈ بینک کی شراکت کو نہ صرف قیمتی بلکہ مثالی قرار دیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے ورلڈ بینک کی شراکت داری پر اظہار تشکر کیا اور کہا کہ ہم ورلڈ بینک کے شکر گزار ہیں جس کی کنٹری پارٹنرشپ پاکستان میں 20 ارب ڈالر سے زائد کی ترقیاتی سرمایہ کاری کا باعث بنے گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت ہر ڈالر کو زمین پر نظر آنے والی بہتری میں بدلنے کے لیے پرعزم ہے۔
وزیراعظم نے 2022 کے سیلاب کا ذکر بھی کیا جس نے پاکستان بھر میں کمیونٹیز کو شدید متاثر کیا۔ انہوں نے کہا کہ لاکھوں افراد متاثر ہوئے، روزگار ختم ہوئے اور املاک تباہ ہوئیں – لیکن ورلڈ بینک ہمارے ساتھ کھڑا رہا۔
ملاقات کے بعد اینا بیئرڈے نے وزیراعظم کی میزبانی کو سراہا اور پاکستان کی ترقی کے لیے بینک کی دیرینہ وابستگی کو دہرایا۔
انہوں نے کہا کہ ورلڈ بینک، حکومت پاکستان کے ساتھ تاریخی شراکت داری کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔ ہم خاص طور پر وزیراعظم کے مؤثر کردار کے شکر گزار ہیں جنہوں نے اس شراکت کو مزید مضبوط کیا اور اسے دوسروں کے لیے ایک ماڈل بنا دیا۔
اس ملاقات میں ورلڈ بینک کے کنٹری ڈائریکٹر ناجی بن حسنین، وفاقی وزرا احسن اقبال، احد چیمہ، شزا فاطمہ خواجہ، وزیراعظم کے مشیر ڈاکٹر توقیر شاہ، سینیٹر شیری رحمان، رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر نفیسہ شاہ اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025