خام تیل کی قیمتوں میں جمعرات کو اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
برینٹ فیوچرز 4 سینٹ بڑھ کر 64.95 ڈالر فی بیرل ہوگئے جب کہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کروڈ 10 سینٹ کے اضافے سے 61.67 ڈالر فی بیرل پر جاپہنچے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن نے بدھ کو بتایا کہ گزشتہ ہفتے خام تیل اور ایندھن کے ذخائر میں غیر متوقع اضافہ ہوا ہے جس کے باعث دونوں اشاریے سیشن کے شروع میں گرے۔ اس دوران خام تیل کی درآمدات چھ ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں جبکہ پٹرول اور ڈسٹلیٹ کی طلب میں کمی واقع ہوئی ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن (ای آئی اے) کے مطابق 16 مئی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران خام تیل کے ذخائر 1.3 ملین بیرل بڑھ کر 443.2 ملین بیرل تک پہنچ گئے۔ رائٹرز کے ایک پول میں شامل ماہرین نے توقع کی تھی کہ ذخائر میں 1.3 ملین بیرل کی کمی ہوگی۔
ایل ایس ای جی آئل ریسرچ کے سینئر اینالسٹ ایمریل جمیل نے کہا کہ ای آئی اے کی طرف سے رپورٹ کردہ غیر متوقع ذخائر میں اضافے کا خاص طور پر ویسٹ ٹیکسس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) پر منفی اثر پڑے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ صورتحال امریکہ کی جانب سے یورپ اور ایشیا کو مزید خام تیل برآمد کرنے کی ترغیب دے سکتی ہے۔
ہِرُو یُوکی کیکوکاوا چیف اسٹریٹجسٹ نسان سیکیورٹیز انویسٹمنٹ، جو نسان سیکیورٹیز کا حصہ ہے، نے کہا کہ اگرچہ امریکہ میں خام تیل کے ذخائر میں اضافے نے تشویش بڑھائی ہے، کچھ سرمایہ کار توقع کرتے ہیں کہ میموریل ڈے ویک اینڈ کے بعد شروع ہونے والا موسمِ گرما کا ڈرائیونگ سیزن اسٹاکس کو کم کرے گا جس سے قیمتوں میں مزید کمی محدود ہوگی۔
بدھ کو دونوں اہم اشاریوں میں 0.7 فیصد کمی ہوئی جب عمان کے وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری مذاکرات کا پانچواں دور جمعہ کو روم میں ہوگا۔
بدھ کو قیمتوں میں پہلے اضافہ ہوا تھا، جب سی این این کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکی خفیہ ادارے کے مطابق اسرائیل ایرانی جوہری تنصیبات پر حملہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے، تاہم یہ واضح نہیں تھا کہ کیا اسرائیلی رہنماؤں نے اس حوالے سے حتمی فیصلہ کیا ہے یا نہیں۔