پاک فوج نے شمالی وزیرساتان کے علاقے میر علی میں حالیہ واقعے کے بارے میں ”بے بنیاد اور گمراہ کن“ الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے دعوے فوج کی انسداد دہشت گردی کی کوششوں کو نقصان پہنچانے کے لیے حقائق کو توڑ مروڑ کرپیش کرنے کی منظم مہم کا حصہ ہیں۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے بدھ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ 19 مئی کا سانحہ جس میں شہریوں کی جانیں ضائع ہوئیں، کو بعض عناصر نے جھوٹے دعوے اور الزامات لگاکر سیکورٹی فورسز سے منسوب کردیا۔
آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق یہ الزامات مکمل طور پر بے بنیاد اور سیکورٹی فورسز کی جاری انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں میں ثابت قدمی کو غیر مستحکم کرنے کیلئے ایک منظم ڈس انفارمیشن مہم کا حصہ ہیں۔
پاک فوج کے ترجمان ادارے نے بتایا کہ حملہ بھارتی سرپرستی میں سرگرم گروہ نے کیا، دہشت گردوں نے انسانی ڈھال کے طور پر شہری علاقوں کا استعمال کیا۔
آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق واقعے کے فوری بعد شروع کی گئی انکوائری کے ابتدائی نتائج سے تصدیق ہوئی ہے کہ یہ حملہ بھارت کے حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ ”فتنہ الخوارج“ نے کیا، یہ اصطلاح ریاست کی جانب سے کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی پی پی) کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ حملہ آوروں نے اپنے بھارتی آقاؤں کے ایما پر کارروائی کی اور جان بوجھ کر شہری آبادیوں اور رہائشی علاقوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا تاکہ اپنے ناپاک عزائم پورے کرسکیں۔
فوج کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ دہشت گردوں کے ایسے ہتھکنڈوں کا مقصد عوام اور سیکورٹی فورسز کے درمیان شکوک و شبہات کو ہوا دینا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ایسی سازشیں کبھی کامیاب نہیں ہوں گی، سیکورٹی فورسز اور عوام دہشت گردی کے خاتمے کے لیے یکجا ہیں۔
آئی ایس پی آر نے دہشت گردی کے خلاف عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلح افواج دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہیں اور اس غیر انسانی فعل میں ملوث عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔