خام تیل کی قیمتوں میں بدھ کو 1 فیصد سے زائد اضافہ دیکھنے میں آیا جب یہ اطلاعات سامنے آئیں کہ اسرائیل ایرانی جوہری تنصیبات پر حملے کی تیاری کررہا ہے جس سے مشرق وسطیٰ کے اہم پیداواری خطے میں رسد متاثر ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

برینٹ آئل کے جولائی کے سودوں کی قیمت 86 سینٹ یا 1.32 فیصد بڑھ کر 66.24 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کے جولائی کے سودے 90 سینٹ یا 1.45 فیصد اضافے کے ساتھ 62.93 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوئے۔

سی این این نے منگل کو امریکی انٹیلی جنس ذرائع کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ امریکہ کو حاصل ہونے والی نئی خفیہ معلومات کے مطابق اسرائیل ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کی تیاری کررہا ہے۔

سی این این نے حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا اسرائیلی قیادت نے حملے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے یا نہیں۔

اس خبر کے بعد امریکی خام تیل کی قیمت میں فی بیرل 2 ڈالر سے زائد جبکہ برینٹ آئل کی قیمت میں 1 ڈالر سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

ایران تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم (اوپیک) کا تیسرا بڑا رکن ہے، اور اسرائیلی حملہ اس کی تیل کی سپلائی کو متاثر کرسکتا ہے۔

تشویش ہے کہ ایران جوابی کارروائی کے طور پر خلیج میں آبنائے ہرمز، جو ایک اہم گزرگاہ ہے، سے تیل بردار جہازوں کی آمدورفت روک سکتا ہے۔ اسی راستے سے سعودی عرب، کویت، عراق اور متحدہ عرب امارات اپنا خام تیل اور ایندھن برآمد کرتے ہیں۔

تاہم، کچھ اشارے ایسے بھی ہیں جو خام تیل کی فراہمی میں بہتری کی امید دلاتے ہیں۔

امریکی منڈی ذرائع کے مطابق، گزشتہ ہفتے امریکہ میں خام تیل کے ذخائر میں اضافہ ہوا جبکہ پٹرول اور ڈیزل کے ذخائر میں کمی دیکھی گئی، یہ اعداد و شمار منگل کو امریکن پٹرولیم انسٹیٹیوٹ کی رپورٹ سے سامنے آئے۔

سرمایہ کار اب بدھ کو جاری ہونے والے امریکی محکمہ توانائی کے سرکاری اعداد و شمار کا بھی انتظار کر رہے ہیں۔

ایک صنعتی ذریعے نے منگل کو بتایا کہ ادھر قازقستان میں مئی میں تیل کی پیداوار میں 2 فیصد اضافہ ہوا ہے، جو کہ اوپیک پلس کی جانب سے پیداوار کم کرنے کے دباؤ کے باوجود ہوا ہے۔