حکومت وفاقی بجٹ (2025-26) میں ان پرتعیش اشیاء کی فہرست میں توسیع کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے جن کی درآمد اور مقامی فراہمی پر 25 فیصد کی بلند شرح سے سیلز ٹیکس نافذ کیا جائے گا۔

حکومت فنانس بل 2026 کے ذریعے ایس آر او 297(I)/2023 میں ترمیم کرے گی یا سیلز ٹیکس ایکٹ میں ایک نیا علیحدہ شیڈول متعارف کرائے گی۔

ذرائع کے مطابق اس فہرست میں مزید گھریلو آلات، ٹائلز/وال پیپرز، مہنگی گھڑیاں اور دیگر کئی اشیاء شامل کر کے توسیع کی جائے گی۔ یہ اقدام ریونیو میں اضافہ کرنے کے لیے اٹھایا جا رہا ہے اور بجٹ 2025-26 میں کسٹمز ڈیوٹی، ریگولیٹری ڈیوٹی اور ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی میں کمی کے باعث ہونے والے محصولات کے نقصان کی تلافی بھی کرے گا۔

ایس آر او 297 (2023) کے تحت ایف بی آر نے پرتعیش اشیاء کی درآمد اور مقامی فراہمی پر 25 فیصد سیلز ٹیکس عائد کیا تھا جن میں ہوائی جہاز، بحری جہاز، زیورات، کاسمیٹکس، سگریٹ، مہنگے موبائل فونز، درآمد شدہ خوراک، سجاوٹی اشیاء، مخصوص اقسام کی گاڑیاں اور دیگر لگژری اشیاء شامل ہیں۔

سیلز ٹیکس کو 33 اقسام کی اشیاء پر 17 فیصد سے بڑھا کر 25 فیصد کر دیا گیا تھا جو کہ 860 کسٹمز ٹیرف لائنز پر مشتمل تھیں۔

ایس آر او 297(I)/2023 کے مطابق، وفاقی حکومت نے ہدایت دی ہے کہ درآمد شدہ اشیاء کی قیمت یا ان کی بعد ازاں فراہمی یا ریٹیل قیمت کی بنیاد پر 25 فیصد کی شرح سے سیلز ٹیکس وصول، عائد اور ادا کیا جائے گا۔ اسی طرح مخصوص اشیاء کی فراہمی کی قیمت پر بھی 25 فیصد کی شرح سے سیلز ٹیکس عائد، وصول اور ادا کیا جائے گا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025