انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی) کی جانب سے جاری کردہ ایک سرکلر کے مطابق، نیشنل ٹیرف پالیسی 30-2025 کے تحت درآمدی ڈیوٹی میں کمی کا پہلا مرحلہ آئندہ مالی سال 26-2025 کے بجٹ میں نافذ کیا جائے گا، جبکہ یہ منصوبہ آئندہ پانچ برسوں میں مکمل ہوگا۔

سرکلر کے مطابق ٹیرف سلیبز کی تعداد موجودہ پانچ سے کم کر کے چار کر دی جائے گی، اور زیادہ سے زیادہ کسٹمز ڈیوٹی کو 20 فیصد سے کم کر کے 15 فیصد تک محدود کیا جائے گا۔

وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق، برآمدی ترقی پر مبنی معاشی حکمت عملی کے تحت درج ذیل اصلاحات کو نیشنل ٹیرف پالیسی 2025-30 کا حصہ بنایا جائے گا:1 . اضافی کسٹمز ڈیوٹی (اے سی ڈی) کو چار سال میں مکمل ختم کیا جائے گا؛2. ریگولیٹری ڈیوٹی (آر ڈی) کو پانچ سال میں ختم کیا جائے گا؛3. کسٹمز ایکٹ کے ففتھ شیڈول کو پانچ سال میں مرحلہ وار ختم کیا جائے گا؛4. کسٹمز ڈیوٹی کی چار نئی سلیبز ہوں گی: 0 فیصد، 5 فیصد، 10 فیصد، اور 15فیصد؛5. زیادہ سے زیادہ کسٹمز ڈیوٹی 15 فیصد تک محدود کی جائے گی۔

سرکلر کے مطابق، موجودہ سلیبز 0فیصد، 3 فیصد، 11 فیصد، 16فیصد اور 20 فیصد پر مشتمل ہیں، جن میں 3 فیصد کے سلیب کو ختم کر کے متعلقہ آئٹمز کو 0 فیصد یا 5 فیصد سلیب میں منتقل کیا جائے گا۔ 11 فیصد سلیب کو 10 فیصد اور 16 فیصد سلیب کو 15فیصد کر دیا جائے گا، جبکہ 20 فیصد کی سلیب کو بتدریج ختم کیا جائے گا۔

ففتھ شیڈول، جو صنعتی خام مال اور کیپیٹل گڈز کی درآمد سے متعلق ہے، اسے بھی آئندہ پانچ برسوں میں ختم کر دیا جائے گا۔

ای ڈی بی نے تمام اسٹیک ہولڈرز سے درخواست کی ہے کہ وہ اس منصوبے کا بغور جائزہ لیں اور اس کے مختلف صنعتی شعبوں، مصنوعات، معیشت کی نمو، اور برآمدات پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے اپنی تجاویز فراہم کریں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ ہفتے نیشنل ٹیرف پالیسی کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ان اصلاحات کو پاکستان کی معیشت کی بحالی کی جانب اہم قدم قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ زیادہ منصفانہ اور بہتر تجارتی پالیسی کے ذریعے معیشت کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔