انٹربینک مارکیٹ میں جمعرات ک کاروباری روز امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں 0.05 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔
کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے میں قدر 15 پیسے کم ہونے کے بعد روپیہ 281 روپے 92 پیسے پر بند ہوا۔
یاد رہے کہ پیر کو روپیہ 281 روپے 77 پیسے پر بند ہوا تھا۔
حالیہ ایک ہفتے کی کمی کے بعد عالمی سطح پر امریکی ڈالر منگل کے روز قدرے مستحکم رہا۔ اس کی وجہ فیڈرل ریزرو کی جانب سے معیشت پر محتاط رویہ اور امریکی قانون سازوں کی طرف سے خسارے میں اضافے کا باعث بننے والے بل کی منظوری کے قریب پہنچنا ہے۔
گزشتہ ہفتے موڈیز کی جانب سے امریکی خودمختار ریٹنگ میں حیران کن کمی کے بعد پیر کو ڈالر میں وسیع پیمانے پر فروخت دیکھی گئی۔ اب توجہ واشنگٹن میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ ٹیکس اصلاحاتی بل پر ہونے والی اہم ووٹنگ کی طرف مرکوز ہے۔
آسٹریلوی ڈالر نے بھی اپنے حالیہ اضافے کو برقرار رکھا، جب کہ منگل کو آسٹریلین ریزرو بینک کی جانب سے 25 بیسس پوائنٹس شرح سود میں کمی کی توقع کی جا رہی ہے۔
اٹلانٹا فیڈ کے صدر رافیل باسٹک نے پیر کو کہا کہ افراط زر میں اضافے اور درآمدی ٹیکسز کی وجہ سے اس سال صرف ایک بار شرح سود میں کٹوتی ممکن ہو سکتی ہے۔
صدر ٹرمپ منگل کو کانگریس میں ٹیکس بل پر ہونے والی بحث میں شامل ہونے والے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ بل امریکی قرض میں 3 سے 5 کھرب ڈالر کا اضافہ کر سکتا ہے۔ امریکی معیشت سے متعلق غیر یقینی صورتحال، بڑھتے ہوئے قرضے اور عالمی اعتماد میں کمی نے امریکی اثاثوں کو متاثر کیا ہے۔
امریکی ڈالر انڈیکس جنوری سے اب تک 10.6 فیصد تک گر چکا ہے، جو کہ تین ماہ میں ہونے والی نمایاں کمی ہے۔
ادھر تیل کی عالمی قیمتوں میں معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا، جس کی وجہ ایران اور امریکا کے درمیان جوہری مذاکرات میں تعطل اور ایرانی تیل کی رسد میں اضافے کے امکانات میں کمی بتائی جا رہی ہے۔ برینٹ آئل 12 سینٹس اضافے سے 65.66 ڈالر جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کروڈ 16 سینٹس بڑھ کر 62.85 ڈالر فی بیرل ہو گیا۔