انٹربینک مارکیٹ میں پیر کے روز امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر معمولی کمی کے بعد 0.04 فیصد کی تنزلی ریکارڈ کی گئی۔
کاروباری دن کے اختتام پر روپیہ 11 پیسے کمی کے ساتھ 281.77 روپے پر بند ہوا۔
4 مارچ 2025 سے لیکر اب تک ڈالر کے مقابلے میں روپے کی کارکردگی
گزشتہ ہفتے بھی روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں معمولی سا مضبوط ہوا اور انٹربینک مارکیٹ میں 0.05 روپے یا 0.02 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔
اسٹیٹ بینک کےمطابق مقامی کرنسی پچھلے ہفتے 281.66 پر بند ہوئی تھی، جو اس سے پہلے 281.71 پر تھی۔
بین الاقوامی سطح پر امریکی ڈالر نے ابتدائی ایشیائی تجارت میں چار ہفتوں کی تیزی روک دی، جب مارکیٹوں نے حکومتِ امریکا کی کریڈٹ ریٹنگ میں غیر متوقع کمی کو ہضم کیا اور جاری تجارتی کشیدگی نے بھی صارفین کے اعتماد پر اثر ڈالا۔
ڈالر نے پچھلے ہفتے اہم کرنسیوں کے مقابلے میں 0.6 فیصد کا اضافہ کیا تھا، جب امریکہ اور چین کے عارضی تجارتی معاہدے نے عالمی کساد بازاری کے خدشات کم کیے۔ تاہم، اقتصادی اعداد و شمار نے درآمدی قیمتوں میں اضافے اور صارف اعتماد میں کمی کی نشاندہی کی۔
موڈیز نے جمعے کو امریکہ کی درجہ بندی میں ایک درجے کی کمی کر دی، جس میں 36 ٹریلین ڈالر کے بڑھتے ہوئے قرضے پر تشویش کا حوالہ دیا گیا۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے اتوار کو ٹیلی ویژن انٹرویوز میں کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ان ”تجارتی شرکاء“ پر وہی ٹیرف عائد کریں گے جو انہوں نے پچھلے ماہ اچھے ارادے سے مذاکرات نہ کرنے والوں پر لگانے کی دھمکی دی تھی۔
دریں اثنا ٹرمپ کو اپنی ہی پارٹی میں مزاحمت کا سامنا ہے کیونکہ وہ ایک وسیع ٹیکس کٹ بل آگے بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں، جس سے اگلی دہائی میں ملک کے قرضے میں اندازاً 3 ٹریلین ڈالر سے 5 ٹریلین ڈالر کا اضافہ ہو سکتا ہے۔
امریکی ڈالر نے ین کے مقابلے میں 0.3 فیصد کمی کے بعد 145.22 ین کا ہو گیا۔
ڈالر سوئس فرانک کے مقابلے میں بھی 0.2 فیصد نیچے رہا، جو ایک اور محفوظ کرنسی ہے۔
مندی کے باوجود پیر کو تیل کی قیمتوں میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی، کیونکہ سرمایہ کار ایران اور امریکہ کے درمیان نیوکلیئر مذاکرات اور چین کے اہم اقتصادی اعداد و شمار کے نتائج کا انتظار کر رہے تھے تاکہ امریکی تجارتی کشیدگی کے بعد اجناس کی طلب پر اثرات کا اندازہ لگایا جا سکے۔
برینٹ خام تیل کی فیوچرز قیمت 5 سینٹ کی کمی کے ساتھ 65.36 ڈالر فی بیرل رہی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 62.52 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا، جو 3 سینٹ کا اضافہ تھا۔
جون میں میچور ہونے والا ڈبلیو ٹی آئی کنٹریکٹ منگل کو ختم ہو رہا ہے، اور جولائی والا زیادہ فعال کنٹریکٹ 4 سینٹ کی کمی کے ساتھ 61.93 ڈالر فی بیرل پر رہا ہے۔
دونوں کنٹریکٹس پچھلے ہفتے ایک فیصد سے زائد بڑھے تھے جب دنیا کی دو بڑی معیشتیں — امریکہ اور چین — نے اپنی تجارتی جنگ میں 90 روزہ توقف کا معاہدہ کیا تھا، جس کے دوران دونوں نے ٹیرف میں نمایاں کمی کی تھی۔