سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور کا اجلاس سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا، جس میں ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کے مالی تعاون سے شروع کیے گئے مختلف توانائی اور بحالی منصوبوں پر تفصیلی غور کیا گیا۔

اجلاس میں این ٹی ڈی سی کے ٹینڈر ”ADB-401B-2022“ پر بحث کی گئی، جو 500 کے وی ڈبل سرکٹ ٹرانسمیشن لائن (83 کلومیٹر) کی خریداری سے متعلق ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ بولی کی دستاویزات 6 مئی 2022 کو اے ڈی بی کی منظوری کے بعد جاری کی گئیں اور بولیاں 7 جولائی 2022 کو کھولی گئیں۔ مجموعی طور پر 25 بولیاں موصول ہوئیں جن میں سے صرف 4 بولیاں لاٹ II (کنڈکٹر) کے لیے تھیں۔

حکام نے بتایا کہ چینی کمپنی ایم/ایس جیانگ سو زیڈ ٹی ٹی کو ناقص پاور آف اٹارنی جبکہ چنگڈاؤ ہانحی کو کارکردگی کے معیار پر پورا نہ اترنے پر غیر موزوں قرار دیا گیا۔ جبکہ ہنان ٹونگ ڈا (چین) اور نیو ایج کیبلز (لاہور) کو موزوں قرار دیا گیا۔ اس پر چیئرمین کمیٹی نے اعتراض اٹھایا کہ کس بنیاد پر کمپنیوں کو نااہل قرار دیا گیا، اور ہدایت دی کہ نااہل قرار دی گئی کمپنی کو آئندہ اجلاس میں بلایا جائے تاکہ ان کا مؤقف بھی سنا جا سکے۔

اجلاس میں اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی گئی کہ پاور سیکٹر کے منصوبے وقت پر شروع نہیں ہوتے، جبکہ ورلڈ بینک کے منصوبے وقت سے پہلے مکمل ہو جاتے ہیں۔ چیئرمین نے نشاندہی کی کہ سندھ میں ایک منصوبہ 1.5 سال میں مکمل ہوا جو 3 سال کے لیے منظور ہوا تھا، جبکہ پاور ڈویژن کے منصوبے 10 سال بعد شروع ہوتے ہیں۔

چیئرمین نے سوال اٹھایا کہ کم بولی دینے والی کمپنی کو نظرانداز کر کے تیسرے نمبر کی کمپنی کو ٹینڈر کیوں دیا گیا، جس سے قومی خزانے کو 50 کروڑ روپے کا نقصان پہنچا۔ کمیٹی نے سفارش کی کہ یہ رقم ایف آئی اے کے ذریعے واپس لی جائے۔

اجلاس میں یہ انکشاف بھی ہوا کہ ایک پرانی، 2017 کی جل چکی دستاویز دوبارہ 2023 میں پیش کی گئی، اور متعلقہ شخص نے اس کا ریفرنس نمبر بھی درست بتایا، جس پر چیئرمین نے بد نیتی کا شبہ ظاہر کیا۔ نیسپاک کے نمائندے کی جانب سے غیر تسلی بخش جوابات پر کمیٹی نے ناراضی کا اظہار کیا۔

لاٹ 1 میں 1.2 ارب روپے کی رقم غلط خانے میں درج ہونے پر بھی بحث ہوئی، جسے بورڈ کے اراکین نے دسمبر میں خود نشاندہی کی تھی۔ تاہم، بورڈ کے نمائندے نے مؤقف اختیار کیا کہ معاملے کی انکوائری جاری ہے، لہٰذا حتمی فیصلہ آنے تک انتظار کیا جائے۔

اجلاس میں سندھ سولر انرجی اور سندھ فلڈ ہاؤسنگ پراجیکٹس پر بھی بریفنگ دی گئی۔ سی ای او نے بتایا کہ 2022 کے سیلاب سے 2.1 ملین گھر متاثر ہوئے، اور یہ دنیا کا سب سے بڑا ہاؤسنگ منصوبہ ہے جو متاثرہ خاندانوں کو دوبارہ گھر فراہم کر رہا ہے۔ 24 اضلاع سے 2 ملین گھروں کا ڈیٹا اکھٹا کیا گیا ہے۔

کمیٹی چیئرمین نے این جی اوز کو دی گئی ادائیگیوں پر سوالات اٹھائے۔ سی ای او نے بتایا کہ اب تک 4 سے 5 ارب روپے ادا کیے جا چکے ہیں۔ این جی اوز کو 9.5 فیصد دیا جا رہا ہے، جس پر چیئرمین نے تجویز دی کہ یہ شرح 3.5 فیصد ہونی چاہیے تاکہ قومی مفاد میں سندھ کے وسائل کو بچایا جا سکے۔

اجلاس میں سینیٹرز راحت جمالی، فوزیہ ارشد، رانا محمود الحسن، حاجی ہدایت اللہ خان اور متعلقہ وزارتوں کے اعلیٰ افسران شریک ہوئے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025