اداریہ

ترقیاتی عمل میں ایک اور رکاوٹ

پی ایس ڈی پی (پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام) سے رقم نکال کر سبسڈی کی مد میں منتقل کرنا صرف ایک ناقص پالیسی نہیں — بلکہ...
شائع May 17, 2025 اپ ڈیٹ May 17, 2025 02:53pm

پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی ) سے فنڈز نکال کر سبسڈی کی مد میں منتقل کرنا صرف ناقص پالیسی نہیں بلکہ ایک غیر اعلانیہ اعتراف ہے — اعتراف اس حقیقت کا کہ ایک بار پھر طویل مدتی ترقی کو قلیل مدتی مالیاتی بقا پر قربان کردیا گیا ہے۔ جب اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی ) نے آئی ایم ایف کے مقرر کردہ سرکلر ڈیٹ اہداف پورے کرنے کے لیے پاور ڈویژن کو 50 ارب روپے دینے کی غرض سے پی ایس ڈی پی کے فنڈز سے دستبرداری اختیار کی تو درحقیقت یہ اس بات کا ثبوت تھا کہ قومی ترقیاتی منصوبے ایک بار پھر وقتی مالیاتی دباؤ کی نذر ہورہے ہیں۔

اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ یہ اقدام کوئی ہنگامی فیصلہ نہیں تھا۔ بلوچستان میں شمسی توانائی سے چلنے والے ٹیوب ویلز کے منصوبے کی منظوری تقریباً ایک سال قبل دی جا چکی تھی، مگر اس کے باوجود اسے بجٹ میں شامل نہ کرنا اور اب ترقیاتی فنڈز سے رقم ہٹا کر عجلت میں اس منصوبے پر خرچ کرنا ہماری مالیاتی منصوبہ بندی کی کمزوری، غیر سنجیدگی اور حکمرانی کے فقدان کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا جب پہلے ہی پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام ( پی ایس ڈی پی) کا بڑا حصہ غیر استعمال شدہ پڑا ہے، جو اسے مزید ناقابلِ جواز بنا دیتا ہے۔ پلاننگ کمیشن کے مطابق رواں مالی سال کے 10 ماہ میں نظرثانی شدہ پی ایس ڈی پی کا صرف 41 فیصد خرچ کیا جا سکا ہے۔ یاد رہے کہ کل مختص رقم کو پہلے ہی کم کر کے 1.4 ٹریلین روپے سے 1.1 ٹریلین روپے کیا گیا تھا، لیکن اپریل کے اختتام تک صرف 448.6 ارب روپے ہی استعمال کیے گئے۔ یہ صورت حال واضح طور پر ظاہر کرتی ہے کہ مسئلہ فنڈز کی کمی کا نہیں، بلکہ انہیں مؤثر اور پیداواری انداز میں خرچ کرنے کی صلاحیت کے شدید فقدان کا ہے۔

فنڈز کی منظوری اور حقیقی استعمال کے درمیان نمایاں فرق ہے۔ وزارتوں اور شعبوں کے لیے 638 ارب روپے جاری کیے گئے،مگر صرف 339 ارب روپے ہی خرچ ہو پائے۔ مالیاتی ڈویژن نے اس سال کے اس حصے تک 73 فیصد فنڈز جاری کرنے کا ہدف دیا تھا، لیکن حقیقی اخراجات اس کے بہت پیچھے ہیں، جو ناقص رابطہ کاری، عمل درآمد اور مؤثر نگرانی کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔

مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ کئی وزارتوں کی مکمل غیر فعال کارکردگی ہے۔ تجارت، مواصلات اور مذہبی امور سمیت کئی شعبوں نے ابھی تک اپنے پی ایس ڈی پی فنڈز میں سے ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کیا۔ یہ صرف نااہلی نہیں بلکہ ذمہ داری سے غفلت ہے۔ ایسی وزارتیں جو اپنے بجٹ کے معمولی حصے کو بھی خرچ کرنے سے قاصر ہوں، نہ صرف انتظامی طور پر کمزور ہیں بلکہ قومی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بھی بن رہی ہیں۔

ایک ایسا شعبہ جو اس مجموعی ناکامی سے مختلف ہے، وہ پارلیمانی فنڈز ہیں۔ جہاں ترمیم شدہ بجٹ 25 ارب روپے تھا، وہاں اب تک 35 ارب روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔ جب کہ کئی وزارتیں ایک روپیہ خرچ کرنے میں ناکام رہیں، منتخب نمائندوں کے ترقیاتی فنڈز نہ صرف مکمل استعمال ہو گئے بلکہ بجٹ سے بھی تجاوز کر گئے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ قومی مفادات کی بجائے سیاسی ترجیحات کو فوقیت دی جا رہی ہے۔

حکومت کا دعویٰ ہے کہ پاور ڈویژن کو منتقل کیے گئے 50 ارب روپے بلوچستان میں 27 ہزار ٹیوب ویل سولرائزیشن کے لیے استعمال ہوں گے۔ اگرچہ یہ منصوبہ قابلِ تحسین ہے، مگر اس کے لیے پہلے ہی 14 ارب روپے جاری کیے جا چکے تھے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ منصوبہ پہلے سے طے شدہ تھا۔ تاہم، یہ منصوبہ کبھی باضابطہ منصوبہ بندی یا ترقیاتی بجٹ میں شامل نہیں کیا گیا۔ اب اس کمی کو پورا کرنے کے بجائے حکومت نے پی ایس ڈی پی کے فنڈز سے رقم نکال کر دیگر ترقیاتی منصوبوں کی گنجائش مزید کم کردی ہے۔

یہ تمام صورت حال اس نایاب معاشی استحکام کے موقع پر پیش آ رہی ہے جب آئی ایم ایف پاکستان کی کارکردگی سے مطمئن ہے اور مہنگائی بڑھنے کی شرح نسبتاً کم ہے جس نے مالی اصلاحات کو مضبوط کرنے اور معیشت کو دوبارہ رفتار دینے کا مختصر موقع فراہم کیا تھا لیکن بدانتظامی نے اس قیمتی موقع کو ضائع کردیا ہے۔ ایک بار پھر، پی ایس ڈی پی کے فنڈز کی ادائیگی اپنے ہدف سے بہت پیچھے رہنے کا امکان ہے، جو کہ حکومتوں اور بجٹ سائیکلز میں جاری کارکردگی کی کمی کا تسلسل ہے۔

اس سال وزارتوں کو غیر استعمال شدہ فنڈز معمول سے ایک ماہ قبل واپس کرنے کا کہا جانا بہت معانی رکھتا ہے۔ اگرچہ یہ مالی نظم و ضبط کے قیام کے لیے کیا گیا ہو گا، لیکن اس اقدام نے الجھن میں اضافہ کیا ہے۔ بعض محکمے اپنی ترقیاتی سرگرمیاں جلد بند کر رہے ہیں، اس خوف سے کہ تاخیر سے جمع کروائی جانے والی دستاویزات کے باعث ان کے فنڈز مستقل طور پر ضائع ہو جائیں گے۔ یہ صورتحال بجٹ کے انتظام میں نظام کی ادارہ جاتی کمزوری اور غیر مربوط، ردعملی فیصلوں کی واضح مثال ہے۔

پاکستان ترقیاتی اخراجات کو لچکدار فنڈ کی طرح چلانے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ پی ایس ڈی پی کو جب من مرضی رقم منتقل کرنے والا فنڈ نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ یہ ملک کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، خدمات کی بہتری اور طویل مدتی ترقی کیلئے اہم ذریعہ ہے۔ لیکن جب تک بجٹ میں مختص رقم کو بروقت اور مؤثر طریقے سے خرچ نہیں کیا جاتا،اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا، بارہا مختلف حکومتوں نے ترقیاتی اہداف پورے نہیں کیے،نہ صرف معاشی مشکلات کی وجہ سے بلکہ بدانتظامی، کمزور حکمرانی، اور اکثر مکمل غفلت کی وجہ سے بھی اہداف پورے نہیں کئے ۔

آخر میں اعدادوشمار خود بولتے ہیں۔ اربوں روپے خرچ نہیں ہوئے، اہم وزارتیں غیر فعال ہیں، لیکن پارلیمنٹیرینز کے پاس وافر فنڈز موجود ہیں۔ اور ایک بار پھر، جسے منصوبہ بندی کہا جاتا ہے وہ محض دکھاوا ہے۔ یہ صرف ضیاع نہیں، بلکہ ناقابل معافی ہے۔