وزیراعظم شہباز شریف نے جمعہ کے روز بھارت کو صلح کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام تنازعات بشمول مسئلہ جموں و کشمیر کو مذاکرات کے ذریعے پرامن طور پر حل کیا جائے۔
انہوں نے یہ بات اسلام آباد میں پاکستان مونومنٹ پر منعقدہ یومِ تشکر کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس تقریب میں مسلح افواج کے سربراہان سمیت دیگر سول و عسکری حکام نے بھی شرکت کی۔
یہ تقریب ایسے وقت منعقد ہوئی جب بھارت اور پاکستان نے جنگ بندی پر اتفاق کیا، جو پہلگام حملے کے بعد پیدا ہونے والی شدید کشیدگی کے نتیجے میں عمل میں آیا۔ بھارت نے اس حملے کا الزام پاکستان پر عائد کیا۔ اس کے جواب میں نئی دہلی نے 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب فضائی حملے کیے جن کے نتیجے میں سرحد پار عام شہری شہید ہوئے۔
صورتحال تیزی سے بگڑ گئی اور دونوں جانب سے کئی روز تک میزائل حملوں کا تبادلہ ہوتا رہا۔ بالآخر امریکی سفارتی مداخلت کے بعد دونوں جوہری طاقتوں نے جنگ بندی پر اتفاق کیا۔
پیر کے روز دونوں ممالک کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز (ڈی جی ایم اوز) نے جنگ بندی کے بعد مذاکرات کا پہلا دورِ منعقد کیا۔
اپنے خطاب میں وزیرِاعظم نے زور دے کر کہا کہ اگرچہ حالیہ تنازع میں پاکستان نے فتح حاصل کی ہے لیکن دیرپا امن ہی ہمارا حتمی مقصد ہے۔
انہوں نے کہا کہ افواج کی صلاحیت کو امریکا سے جاپان تک تسلیم کیا جا رہا ہے اور مزید کہا کہ پشاور سے کراچی تک پوری قوم مسلح افواج کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے دعویٰ کیا کہ اب کوئی عالمی طاقت پاکستان کی ترقی کو نہیں روک سکتی اور جنگ بندی کے قیام میں معاونت پر دوست ممالک کا شکریہ ادا کیا۔
تنازع کے بعد کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیرِاعظم نے کہا کہ اس کشمکش نے دونوں طرف صرف غربت اور بے روزگاری میں اضافہ کیا اور کوئی ٹھوس نتیجہ حاصل نہ ہو سکا۔
انہوں نے کہا کہ سبق واضح ہے: ہمیں پرامن ہمسایوں کی حیثیت سے بیٹھ کر اپنے بنیادی مسائل، خصوصاً مسئلہ جموں و کشمیر، حل کرنے ہوں گے۔ جب تک ان معاملات کو حل نہیں کیا جاتا، خطے میں پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ پائیدار امن کا انحصار جموں و کشمیر اور پانی کی تقسیم جیسے مسائل کے مستقل حل پر ہے۔ ایک بار جب ہم ان چیلنجز کو حل کر لیں تو تعاون کی کوئی حد نہیں رہے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہہم تجارت، کاروباری لین دین اور انسدادِ دہشت گردی میں مشترکہ کوششوں پر بات کر سکتے ہیں۔