اپریل 2025 کے دوران سمندرپار پاکستانیوں نے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس (آر ڈی اے) کے ذریعے 177 ملین ڈالر کا زرمبادلہ ملک ارسال کیا جو 25 فیصد کمی کو ظاہر کرتا ہے ۔ مارچ میں 235 ملین ڈالر کا زرمبادلہ ملک ارسال کیا گیا تھا۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق اپریل میں کل آمدن میں سے اب تک 24 ملین ڈالر بیرون ملک منتقل کیے گئے جب کہ 159 ملین ڈالر مقامی سطح پر استعمال ہوئے۔
مرکزی بینک کے مطابق روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کی کل تعداد 814,244 تک پہنچ گئی ہے جو مارچ کے آخر میں 805,442 تھی، یعنی ایک ماہ کے دوران 8 ہزار 802 نئے اکاؤنٹس کھولے گئے ہیں۔
اسٹیٹ بینک کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ ماہ کے اختتام تک روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں مجموعی طور پر 10.18 ارب ڈالرز موصول ہوچکے ہیں جس میں سے اب تک 1.757 ارب ڈالر بیرون ملک منتقل کیے جاچکے ہیں جبکہ 6.527 ارب ڈالر مقامی سطح پر استعمال ہوئے ہیں۔
نتیجتاً اپریل کے آخر تک کل قابل واپسی واجبات 1.897 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔
کل واجبات میں سے 1,356 ملین ڈالر نئی پاکستان سرٹیفکیٹس کے تحت ہیں جن میں 456 ملین ڈالر روایتی این پی سیز اور 900 ملین ڈالر اسلامی مالیاتی آلات شامل ہیں۔
اسی طرح اسٹیٹ بینک کے مطابق 444 ملین ڈالر روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس میں بیلنس کے طور پر موجود ہیں۔
دوسری جانب، روشن ایکوٹی سرمایہ کاری ماہانہ سطح پر کم ہو کر 58 ملین ڈالر رہ گئی جو 6 فیصد کی ماہانہ کمی کو ظاہر کرتی ہے۔
پس منظر
آر ڈی اے پاکستان کے لیے زرمبادلہ کی آمد کا ایک اہم ذریعہ ہے۔
یہ اقدام اسٹیٹ بینک کی جانب سے ستمبر 2020 میں شروع کیا گیا تھا ۔