پاکستان

پاک بھارت جھڑپ میں چینی ہتھیار جنگی امتحان میں پورا اترے ، رپورٹ

پاکستان نے چینی ساختہ جے 10 لڑاکا طیاروں سے بھارتی رافیل طیارے مار گرائے جس سے چینی ہتھیاروں کی افادیت ثابت ہوئی۔ اس...
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان نے چینی ساختہ جے 10 لڑاکا طیاروں سے بھارتی رافیل طیارے مار گرائے جس سے چینی ہتھیاروں کی افادیت ثابت ہوئی۔ اس کامیابی نے عالمی سطح پر چینی دفاعی ساز و سامان کی ساکھ بڑھائی اور ہتھیاروں کے معیار کے حوالے سے تصورات بھی بدل دیے۔

فرانس 24 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے 7 مئی کو چینی سفارت خانے میں ایک وفد کو آگاہ کیا کہ چینی ملٹی پرپز فائٹر جیٹ، چنگدو J-10 ویگوراس ڈریگن نے بھارت کے فرانسیسی ساختہ رافیل طیارے کو مار گرایا ہے۔

یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب بھارت نے 22 اپریل کو پہلگام حملے کے جواب میں پاکستان کے خلاف آپریشن سندور کا آغاز کیا اور پاکستان پر پہلی بار حملہ کیا۔ بھارت نے اس حملے کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرایا جب کہ اسلام آباد نے ان الزام کی سختی سے تردید کی تاہم وہ بھارت کی ممکنہ فوجی جوابی کارروائی کے لیے مکمل طور پر تیار تھے۔

چنانچہ حالیہ برسوں میں پاکستان نے چینی ہتھیاروں کے نظام حاصل کیے ہیں۔

جب بیجنگ کے سفیر کی قیادت میں چینی وفد اسلام آباد میں پاکستان کے دفترِ خارجہ پہنچا تو انہیں فوری طور پر خوشخبری دی گئی، یہ بات پاکستانی وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے اسی دن پارلیمنٹ کو بتائی۔

اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ ہمارے جنگی طیاروں نے تین بھارتی رافیل طیارے مار گرائے ہیں ۔ انہوں نے وضاحت کی ہمارے طیارے J-10C تھے جو چین کے چنگدو J-10 ویگوراس ڈریگن ہیں، یہ فائٹر جیٹ پاک بھارت جھڑپ سے قبل کسی جنگی میدان میں آزمایا نہیں گیا ہے ۔

جنگ بندی کے بعد توجہ اسلام آباد کے اُن نئے چینی ہتھیاروں اور دفاعی نظاموں پر مرکوز ہو گئی جو بالآخر 7 سے 10 مئی کے دوران بھارت اور پاکستان کے درمیان مسلح جھڑپ میں عملی طور پر آزمائے گئے۔ یہ جھڑپ ایسے وقت میں ہوئی جب بھارت کے حالیہ حاصل کردہ مغربی ساختہ ہتھیاروں کا سامنا چین کے تیزی سے جدید ہوتے فوجی ساز و سامان سے ہوا۔

نظرئیے کے لحاظ سے چین کی بڑی فتح

22 اپریل کے پہلگام حملے کے بعد جوابی کارروائی سے قبل حالات نئی دہلی کے حق میں تھے۔ بھارت نے ابتدائی حملوں کے ذریعے اپنی روایتی پالیسی یعنی تزویراتی تحمل سے ہٹ کر نہ صرف آزاد کشمیر اور دور دراز سرحدی علاقوں کو بلکہ پاکستان کے سیاسی مرکز، صوبہ پنجاب کو بھی نشانہ بنایا۔

بھارتی جارحیت نے جھڑپوں کے دوسرے روز بین الاقوامی سطح پر خطرے کی گھنٹیاں بجا دیں، جب اس نے راولپنڈی میں واقع نور خان ایئر بیس کو نشانہ بنایا — جو اسلام آباد کے قریب واقع ایک فوجی چھاؤنی والا شہر ہے۔ نور خان بیس، پاکستان کے اسٹریٹجک پلانز ڈویژن کے ہیڈکوارٹرز کے بالکل قریب واقع ہے، جو ملک کے جوہری اثاثوں کی نگرانی اور حفاظت کا ذمہ دار ادارہ ہے اور پاکستان کی فوجی سرگرمیوں کا ایک اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔

پاکستان کے اس دعوے کہ اس کے J-10 لڑاکا طیاروں نے بھارت کے فرانسیسی ساختہ رافیل طیارے مار گرائے سے چینی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ویبو پر خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ متعدد صارفین نے قیاس ظاہر کیا کہ اب جلد ہی خریدار چینی اسلحہ ساز کمپنیوں کا رخ کریں گے۔

ویرونا میں بین الاقوامی سکیورٹی اسٹڈی ٹیم کے چینی ماہر کارلوٹا ریناؤڈو نے کہا کہ ہمیشہ یہ تاثر رہا کہ چینی ہتھیار بھی کسی حد تک چینی مصنوعات کی طرح ہوتے ہیں یعنی کم معیار کے، ہم نے یہ فرض کر لیا تھا کہ چینی ہتھیار ناقص ہیں لیکن اب ایسا نہیں رہا۔

ہم نے شروع میں چین کو صرف ٹینک اور چھوٹے ہتھیار بیچتے دیکھا، خاص طور پر پاکستان کو۔ اب ہم دیکھ رہے ہیں کہ چین جدید ہتھیار فروخت کررہا ہے جو واقعی بہت مؤثر ثابت ہورہے ہیں، لہٰذا اس سے جو سبق ہمیں ملنا چاہیے وہ یہ ہے کہ شاید چینی ہتھیار مغربی ہتھیاروں سے کم تر نہیں ہیں، ہمیں اس طرزِ فکر کو بدلنا ہوگا جو ہم طویل عرصے سے رکھتے آ رہے ہیں۔