وزیراعظم کا بھارت پاکستان کشیدگی میں ثالثی پر اماراتی صدر سے اظہار تشکر، ملکی خودمختاری کے دفاع کا عزم
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بدھ کی شام متحدہ عرب امارات کے صدر اور ابوظہبی کے حکمران شیخ محمد بن زاید النہیان سے ٹیلیفون پر گفتگو کی۔ وزیراعظم نے پاک بھارت کشیدگی میں کمی کے لیے متحدہ عرب امارات کے کردار کو سراہا اور ساتھ ہی پانی کے حقوق اور علاقائی سالمیت سے متعلق پاکستان کے موقف کا اعادہ کیا۔ یہ بات وزیراعظم کے دفتر سے جاری ایک بیان میں کہی گئی ہے۔
اپنی خوشگوار اور دوستانہ گفتگو کے دوران وزیراعظم نے جنوبی ایشیا میں حالیہ بحران کو کم کرنے کے لیے متحدہ عرب امارات کی سفارتی کوششوں اور تعمیری کردار پر دلی شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات نے ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان جنوبی ایشیا میں امن کا خواہاں ہے اور اسی جذبے کے تحت بھارت کے ساتھ جنگ بندی کی مفاہمت پر آمادگی ظاہر کی۔
انہوں نے اس مفاہمت پر عملدرآمد کے عزم کو دہرایا اور ہرقیمت پر ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے آہنی عزم کا بھی اعادہ کیا۔
وزیراعظم نے واضح کیا کہ پاکستان سندھ طاس معاہدے کی ساکھ کو کبھی چیلنج ہونے کی اجازت نہیں دے گا۔
انہوں نے پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان پرجوش، قریبی اور برادرانہ تعلقات کا اعادہ کیا۔
وزیراعظم نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران دونوں دوست ممالک کے درمیان دو طرفہ تعاون، خاص طور پر معیشت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں، مثبت انداز میں آگے بڑھ رہا ہے۔
انہوں نے پاکستان اور یو اے ای کے موجودہ تعلقات کو باہمی مفاد پر مبنی معاشی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے اپنے مضبوط عزم کا اعادہ بھی کیا۔
متحدہ عرب امارات کے صدر نے جنگ بندی کے مفاہمت کا خیرمقدم کیا اور امن کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے قیام کی حمایت کرتا ہے۔