پاکستان میں قابل تجدید توانائی کا رجحان تیز، لاجسٹکس فرم کا 1 میگاواٹ سولر پلانٹ کا منصوبہ تیار
علی اصغر ٹیکسٹائل ملز لمیٹڈ (اے اے ٹی ایم)، جو ایک سابقہ ٹیکسٹائل یونٹ سے لاجسٹک سروس فراہم کنندہ کمپنی میں تبدیل ہو چکی ہے، ایک 1,000 کلو واٹ (1 میگا واٹ) کا سولر پاور منصوبہ تیار کر رہی ہے، جو اب تکمیل کے مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔
اس لسٹڈ کمپنی نے بدھ کے روز پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کو ایک نوٹس میں یہ پیشرفت سے آگاہ کیا۔
نوٹس میں کہا گیا کپہ ہم اپنے شیئر ہولڈرز اور سرمایہ کاروں کو یہ بتاتے ہوئے خوشی محسوس کر رہے ہیں کہ ہماری مکمل ملکیتی ذیلی کمپنی، فضل سولر انرجی (پرائیویٹ) لمیٹڈ کی جانب سے تیار کیا جانے والا 1,000 کلو واٹ کا سولر پاور منصوبہ اب تکیمل کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
کمپنی نے بتایا کہ منصوبے کے لیے زیادہ تر سامان موقع پر پہنچا دیا گیا ہے اور انسٹالیشن کا کام جاری ہے۔ انجینئرنگ، خریداری اور تعمیرات (ای پی سی) کا معاہدہ ڈی ایس جی انرجی کو دیا گیا ہے۔
معاہدے کے مطابق منصوبہ 30 جولائی 2025 تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔ کامیابی سے مکمل ہونے پر، اس سائٹ پر مجموعی نصب شدہ سولر پاور کی صلاحیت 1,250 کلو واٹ ہو جائے گی، جس میں پہلے سے چلنے والا 250 کلو واٹ کا پلانٹ بھی شامل ہے۔
کمپنی کا کہنا تھا کہ یہ نیا منصوبہ اس کی منافع میں اضافہ کرے گا اور آمدن کے لیے ایک متنوع اور پائیدار ذریعہ فراہم کرے گا۔
تکنیکی تفصیلات بتاتے ہوئے، کمپنی نے کہا کہ اس منصوبے میں ٹرینا سولر کے 710 کلو واٹ کے پینلز استعمال کیے جا رہے ہیں۔
کمپنی نے کہا کہ اس منصوبے کے آغاز سے اندازاً سالانہ 912 میٹرک ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں کمی آئے گی، جو تقریباً 41,222 درخت لگانے کے ماحولیاتی اثرات کے برابر ہے۔
کمپنی کی ویب سائٹ کے مطابق، علی اصغر ٹیکسٹائل ملز لمیٹڈ کی بنیاد 1969 میں ایک ٹیکسٹائل اسپننگ یونٹ کے طور پر رکھی گئی تھی۔ تاہم، 2011 میں انتظامیہ نے ایک اسٹریٹجک فیصلہ کرتے ہوئے اسپننگ یونٹ سے نکل کر ویئرہاؤسنگ/لاجسٹکس میں سرمایہ کاری کا آغاز کیا۔
پاکستان میں قابلِ تجدید توانائی، خصوصاً سولر انرجی کی طرف رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے، جو رہائشی اور کمرشل شعبوں میں خاصی مقبول ہو چکی ہے۔
یہ رجحان قومی گرڈ اور توانائی کے شعبے کے لیے چیلنج بن گیا ہے، کیونکہ بجلی کی کھپت تقریباً جمود کا شکار ہے۔
اس کے باوجود، کئی منصوبے اس سستی توانائی کے ذریعے سے فائدہ اٹھانے کے لیے شروع کیے گئے ہیں۔
رواں ماہ کے آغاز میں، انٹرنیشنل اسٹیلز لمیٹڈ (آئی ایس ایل)، جو انٹرنیشنل انڈسٹریز لمیٹڈ کی ذیلی کمپنی ہے، نے کراچی میں واقع اپنے کارخانے پر 6.4 میگا واٹ کا سولر پاور منصوبہ مکمل کر کے چالو کر دیا۔
مارچ میں، طارق کارپوریشن لمیٹڈ (ٹی سی او آر پی)، جو چینی اور اس کی ذیلی مصنوعات تیار کرتی ہے، نے اپنی تنصیب پر 200کے ڈبلیو کا سولر پاور سسٹم لگانے کا اعلان کیا۔
فروری میں، اولمپیا ملز لمیٹڈ نے اپنی تنصیب پر 500کے ڈبلیو کا آف گرڈ سولر پاور سسٹم لگانے کے منصوبے کا اعلان کیا۔
اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کو پیش کیے گئے اعدادوشمار کے مطابق، ملک میں کل نصب شدہ سولر انرجی 2021 میں 321 میگا واٹ سے بڑھ کر دسمبر 2024 تک 4,124 میگا واٹ ہو چکی ہے۔