عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بدھ کے روز معمولی کمی دیکھی گئی، جب کہ سرمایہ کاروں کی نظریں امریکہ میں خام تیل کے ذخائر میں ممکنہ اضافے پر مرکوز رہیں۔ تاہم، امریکہ اور چین کے درمیان ٹیرف میں عارضی کمی کے باعث قیمتیں اب بھی دو ہفتوں کی بلند ترین سطح کے قریب برقرار ہیں۔

بدھ کی صبح 4 بجے (جی ایم ٹی) تک برینٹ کروڈ فیوچرز 0.6 فیصد یا 39 سینٹس کمی کے ساتھ 66.24 ڈالر فی بیرل پر آ گیا، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کروڈ 36 سینٹس یا 0.6 فیصد کمی کے ساتھ 63.31 ڈالر فی بیرل پر بند ہوا۔ دونوں اشاریے گزشتہ سیشن میں 2.5 فیصد سے زائد بڑھ چکے تھے۔

پیر کو امریکہ اور چین نے باہمی تجارتی جنگ میں کم از کم 90 دن کا وقفہ لینے پر اتفاق کیا، جس کے تحت امریکہ نے چینی درآمدات پر ٹیرف 145 فیصد سے کم کر کے 30 فیصد جبکہ چین نے امریکی مصنوعات پر محصولات 125 فیصد سے گھٹا کر 10 فیصد کر دیے۔

فلپ نووا کی سینیئر مارکیٹ تجزیہ کار پرینکا سچدیوا نے کہا کہ ”امریکہ-چین اقتصادی جنگ میں وقفے سے طلب میں بہتری کی امید پیدا ہوئی ہے، تاہم امریکی ذخائر میں ممکنہ اضافے نے یہ جوش وقتی طور پر کم کر دیا ہے۔“

منگل کو امریکن پٹرولیم انسٹی ٹیوٹ کے اعدادوشمار کے مطابق، 9 مئی کو ختم ہونے والے ہفتے میں امریکی خام تیل کے ذخائر میں 43 لاکھ بیرل کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس کا باضابطہ اعلان بدھ کو امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کی جانب سے کیا جائے گا۔

اس کے علاوہ، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلیجی ممالک کے دورے پر بھی مارکیٹ کی نظر ہے، جس کے دوران انہوں نے ریاض میں ایک سرمایہ کاری فورم میں شرکت کی اور شام پر عائد پرانی پابندیاں ختم کرنے کا عندیہ دیا۔ سعودی عرب سے 600 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے وعدے بھی کیے گئے۔

ریسٹاد انرجی کے مطابق، صدر ٹرمپ گرمیوں کے موسم میں تیل کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے کو روکنے کے لیے سرگرم ہیں، اور امریکہ ممکنہ طور پر سستی قیمتوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مشرق وسطیٰ سے مزید تیل خرید سکتا ہے۔

دریں اثنا، امریکہ نے ایران کی افواج اور سپہر انرجی کے ذریعے چین کو ایرانی تیل بھیجنے میں مدد کرنے والی 20 کمپنیوں پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں، جو ایران کے جوہری پروگرام پر جاری مذاکرات کے دوران کشیدگی میں اضافے کا اشارہ ہیں۔