پاکستان اسٹاک مارکیٹ ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں بدھ کے کاروباری روز ملا جلا رحجان دیکھنے میں آیا ہے اور بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس اتار چڑھاؤ کے بعد ہموار سطح پر بند ہوا ہے۔

کاروباری سیشن کے پہلے نصف میں خریداری کا رحجان دیکھا گیا اور انٹرا ڈے ٹریڈنگ کے دوران انڈیکس 119,460.54 پوائنٹس تک جا پہنچا تاہم آخری گھنٹوں میں فروخت کا دباؤ غالب آنے سے انڈیکس انٹرا ڈے ٹریڈنگ کی کم ترین سطح 118,148.65 پوائنٹس تک گرگیا۔

کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک انڈیکس 39.36 پوائنٹس یا 0.03 فیصد کی معمولی کمی کے ساتھ 118,536.53 پوائنٹس پر بند ہوا۔

بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکورٹیز نے اپنی پوسٹ مارکیٹ رپورٹ میں بتایا کہ مسلسل 2 مضبوط سیشنز کے دوران تیزی کے رحجان کے بعد مقامی مارکیٹ نے ملے جلے رحجان کے سیشن کا مشاہدہ کیا جس میں اتار چڑھاؤ اور حکمت عملی کے تحت منافع حاصل کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق ایم ای بی ایل، ایف ایف سی، اینگرو اور یو بی ایل جیسے ہیوی اسٹاکس کی بدولت انڈیکس میں مجموعی طور پر 470 پوائنٹس کا اضافہ کیا جبکہ ماڑی، بینک الحبیب، ایم سی بی اور او جی ڈی سی کے سبب 354 پوائنٹس کم ہوئے۔

انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کی ٹیم آج سے پاکستانی حکام کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کرے گی، جن میں آئندہ مالی سال 26-2025 کے بجٹ پر بات چیت کی جائے گی۔ حکومت ٹیکس نیٹ کے پھیلاؤ، توانائی کے شعبے میں اصلاحات، اور سرکاری اداروں کی تنظیم نو پر اپنی پیشرفت سے بھی آئی ایم ایف کو آگاہ کرے گی۔

منگل کے روز بھی اسٹاک مارکیٹ میں تیزی کا رجحان برقرار رہا، جب کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی معاہدے کی خبر نے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا۔ کے ایس ای 100 انڈیکس 1,300 پوائنٹس اضافے کے ساتھ 118,575.88 پر بند ہوا۔

عالمی سطح پر بدھ کے روز ایشیائی مارکیٹوں میں معمولی اضافہ دیکھا گیا جبکہ امریکی ڈالر میں اتار چڑھاؤ رہا، کیونکہ امریکہ کے نسبتاً معتدل افراط زر کے اعداد و شمار نے سرمایہ کاروں میں یہ امید پیدا کی کہ امریکی فیڈرل ریزرو رواں سال شرح سود میں کمی کر سکتا ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں چین اور امریکہ کے درمیان جاری ٹیرف تنازع میں وقتی صلح کے بعد مالیاتی منڈیوں میں تاحال غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔

ایم ایس سی آئی کا ایشیا پیسیفک شیئرز انڈیکس (جاپان کے علاوہ) ابتدائی تجارت میں 0.9 فیصد بڑھ گیا، جب کہ امریکی اسٹاکس نے سال کی سابقہ مندی سے واپسی کرتے ہوئے مثبت رجحان اختیار کیا۔

ہانگ کانگ کے ہینگ سینگ انڈیکس میں ابتدائی تجارت میں ٹیکنالوجی اسٹاکس کے سہارے اضافہ ہوا، جب کہ چینی ای کامرس ریٹیلر جے ڈی ڈاٹ کام کے اچھے نتائج نے بھی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھایا۔ اس ہفتے سرمایہ کاروں کی نظریں ٹین سینٹ اور علی بابا کی آمدنی رپورٹس پر مرکوز رہیں گی۔

ادھر یورپی اور امریکی مارکیٹوں میں کمی کی پیش گوئی کی جا رہی ہے۔

دریں اثنا انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں 0.05 فیصد کمی واقع ہوئی اور روپیہ 5 پیسے کم ہونے کے بعد 281 روپے 72 پیسے پر بند ہوا۔

آل شیئر انڈیکس پر حجم 684.29 ملین سے کم ہو کر 609.06 ملین رہ گیا۔

حصص کی مالیت گزشتہ سیشن کے 52.59 ارب روپے سے کم ہو کر 41.91 ارب روپے رہ گئی۔

الطہور لمیٹڈ 38.76 ملین حصص کے ساتھ والیم لیڈر رہی۔ اس کے بعد فوجی سیمنٹ 36.17 ملین حصص کے ساتھ دوسرے اور سوئی سدرن گیس 32.38 ملین حصص کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہی۔

بدھ کے روز 451 کمپنیوں کی شیئرز کی خریدو فروخت ہوئی۔ 207 کمپنیوں کے حصص میں اضافہ اور 191 کمپنیوں کے شیئرز میں کمی آئی جبکہ 53 کمپنیوں کے حصص مستحکم رہے۔