پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی حالیہ کشیدگی سے دنیا بھر کے ممالک کی توجہ چینی ہتھیاروں کی جنگی صلاحیت پر مبذول ہوگئی ہے کیونکہ پاکستان کی جانب سے چینی ساختہ جے-10 سی لڑاکا طیاروں کے مؤثر استعمال نے بیجنگ کی عسکری ٹیکنالوجی سے متعلق پرانے تصورات کو چیلنج کر دیا ہے۔ یہ بات بلومبرگ نے اپنی رپورٹ میں بتائی ہے۔

پاکستانی فوج نے بدھ کے روز دعویٰ کیا کہ تاریخی فضائی جھڑپ کے ایک دن بعد، بھارت کی جانب سے اس کی سرزمین پر میزائل حملوں کے جواب میں، اس نے پانچ بھارتی جنگی طیارے مار گرائے جن میں تین رافیل طیارے، جو بھارت کی حالیہ فضائی جدت کاری کا اہم حصہ سمجھے جاتے ہیں، ایک ایس یو 30 اور ایک مگ-29 شامل ہیں۔

اگرچہ بھارت نے تاحال ان مبیّنہ نقصانات پر کوئی سرکاری ردِعمل نہیں دیا تاہم اس معاملے کو نہ صرف ایشیا بلکہ عالمی سطح پر بھی انتہائی غور سے دیکھا جارہا ہے۔

فرانسیسی حکام نے گزشتہ ہفتے کم از کم ایک رافیل طیارے کے مار گرائے جانے کی تصدیق کی تھی جس سے پاکستان کے مؤقف کو مزید تقویت ملی۔ امریکی حکام نے بھی تصدیق کی کہ پاکستانی افواج نے چینی ساختہ جنگی نظام استعمال کرتے ہوئے بھارتی فضائیہ کے کم از کم دو طیارے مار گرائے۔

عالمی سطح پر بھارت کو پہنچنے والے ان نقصانات کی تصدیق کے چند روز بعد بھارتی فضائیہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے اتوار کے روز ایک پریس بریفنگ میں مبہم انداز میں رافیل طیاروں کے تباہ ہونے کا اعتراف کیا۔

ایک سوال کے جواب میں، ایئر مارشل بھارتی نے کہا کہ جنگ میں نقصانات ہوتے ہیں تاہم انہوں نے واقعے کی تاریخ، مقام یا حالات کے بارے میں کوئی تفصیل فراہم نہیں کی۔

اگر یہ رپورٹس درست ثابت ہوتی ہیں تو یہ معاملہ جے-10 کی صلاحیت کی اب تک کی سب سے بڑی عملی تصدیق قرار دیا جا سکتا ہے—اس طیارے کے لیے جو اب تک نسبتاً کم جنگی تجربے کا حامل رہا ہے۔

12 مئی کو ڈسالٹ ایوی ایشن کے حصص کی قیمت 7 فیصد کمی کے ساتھ 292 یورو پر آ گئی۔ اس کے برعکس چین کی ایرواسپیس کمپنی ”چینگدو ایئرکرافٹ کارپوریشن“ (سی اے سی)— جو جے-10 لڑاکا طیارے تیار کرتی ہے — کے حصص میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ سی اے سی کے شیئرز 20 فیصد بڑھ کر 95.86 چینی یوآن تک پہنچ گئے جو گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں 60 فیصد اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔

اس پیشرفت نے تائی پے میں بھی تشویش پیدا کر دی ہے۔ تائیوان کے قومی دفاع اور سیکیورٹی تحقیقاتی ادارے کے سینئر محقق شو ہسیاو ہوانگ نے کہا کہ ہمیں چینی فوج کی فضائی لڑائی کی صلاحیتوں کا دوبارہ اندازہ لگانے کی ضرورت ہو سکتی ہے جو مشرقی ایشیا میں امریکی فضائی طاقت کی سطح تک پہنچ رہی ہیں یا اسے تجاوز کر رہی ہیں۔

یہ واقعہ نہ صرف ایک سفارتی اور عسکری تناؤ کا معاملہ ہے بلکہ عالمی اسلحہ مارکیٹ کے لیے ایک ممکنہ موڑ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ پاکستان طویل عرصے سے چینی دفاعی سامان کا اہم خریدار رہا ہے، لیکن اب تک کئی تجزیہ کاروں نے یہ سوال اٹھایا تھا کہ آیا بیجنگ کے نظام حقیقی جنگی حالات میں مغربی ہم منصبوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔

جے-10 سی طیاروں کی ظاہری کامیابی، ساتھ ہی چینی پی ایل-15 فضائی میزائلوں کے استعمال کے شواہد، جو بھارتی علاقے سے ملے ہیں، اب ممکنہ طور پر ایک وسیع تر جائزے کا باعث بن سکتے ہیں۔

PL-15 میزائلوں کا ملبہ، جو ماچ 5 کی رفتار سے زیادہ پرواز کرتے ہیں اور انہیں امریکی اے آئی ایم-120 ایمرام کا چینی جواب سمجھا جاتا ہے، مقبوضہ کشمیر میں ان مقامات کے قریب سے ملے جہاں یہ فائر کیے گئے۔ یہ میزائل، جو جے-10 سی طیاروں پر نصب تھے، ممکنہ طور پر ان جھڑپوں کے دوران استعمال ہوئے تھے۔ اگر اس کی تصدیق ہو جاتی ہے، تو یہ لڑائی میں پی ایل-15 کا پہلا حقیقی استعمال ہوگا۔

چین کے سرکاری جریدے گلوبل ٹائمز کے سابق ایڈیٹر ان چیف ہو ژی جن نے اس موقع کو تائیوان کو سوشل میڈیا کے ذریعے انتباہ دینے کے لیے استعمال کیا۔

انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان کے حملے درست ثابت ہوتے ہیں تو تائیوان کو اور بھی زیادہ خوف محسوس کرنا چاہیے۔ انہوں نے اس بات کو اجاگر کیا کہ چین کے بڑھتے ہوئے عسکری اعتماد کے باعث خطے میں کشیدگیاں بڑھ سکتی ہیں۔

چین کی دفاعی برآمدات، جو کبھی معیار اور ترقی کی لحاظ سے کمتر سمجھی جاتی تھیں، اب ترقی پذیر دنیا میں اپنی مقبولیت حاصل کر رہی ہیں۔

اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (ایس آئی پی آر آئی) کے مطابق چین کی پانچ سالہ اوسط اسلحہ برآمدات 2000-2004 اور 2020-2024 کے درمیان تین گنا بڑھ چکی ہے۔ بیجنگ اب دنیا کا چوتھا سب سے بڑا اسلحہ برآمد کنندہ ہے جبکہ پاکستان، بنگلہ دیش اور میانمار جیسے ممالک اس کے اہم صارفین میں شامل ہیں۔

تاہم اب بھی کچھ ماہرین اس لمحے کو زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کے خلاف انتباہ کررہے ہیں۔ ایم. ٹیلر فریول ایم آئی ٹی کے ایک ماہر کا کہنا ہے کہ جے-10 سی کو اس مخصوص جھڑپ میں ایک فائدہ ہو سکتا ہے، لیکن یہ بنیادی طور پر فضائی برتری کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، جبکہ رافیل کا مشن پروفائل زیادہ وسیع ہے۔

انہوں نے رواں برس چین کی جانب سے مصنوعی ذہانت میں حیران کن پیش رفت کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ مزید کہا کہ اگرچہ یہ ڈیپ سیک کی طرز کا لمحہ نہیں تاہم یہ ایک اہم سنگ میل کی نشاندہی کرتا ہے، اس بارے میں بہت کچھ سیکھا جا رہا ہے کہ چینی نظام جنگی حالات میں کیسی کارکردگی دکھاتے ہیں۔

بیجنگ نے ابھی تک ان رپورٹس پر باضابطہ سرکاری ردعمل جاری نہیں کیا اور نہ ہی پاک بھارت کشیدگی کے دوران اپنے کردار پر کوئی تبصرہ کیا ہے۔ تاہم چوں کہ چینی فوج 2027 تک مکمل طور پر ایڈوانس ہونے کا ارادہ رکھتی ہے اور صدر شی جن پنگ عسکری اور شہری شعبوں کو مزید مربوط کرنے کی کوشش کررہے ہیں، دنیا آنے والے سالوں میں چینی فوجی طاقت کے مزید ایسے مظاہرے دیکھ سکتی ہے۔