1960 میں ورلڈ بینک کی ثالثی سے طے پانے والا انڈس واٹرز معاہدہ (آئی ڈبلیو ٹی) جو بھارت اور پاکستان کے درمیان تین جنگوں کے دوران بھی فعال رہا، 24 اپریل 2025 کو معطل کردیا گیا۔ یہ فیصلہ 22 اپریل کو پہلگام حملے کے بعد کیا گیا تھا جس میں 25 بھارتی اور ایک نیپالی سیاح ہلاک ہوگئے تھے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ معاہدہ فی الحال معطل ہے کیونکہ پاکستان نے معاہدے کی بنیادی روح—نیک نیتی اور پڑوسیانہ رواداری—کو پامال کیا ہے۔
بے شمار شواہد کے مطابق بھارت کی دفاعی افواج مغربی ٹیکنالوجی کے ساتھ مؤثر کارکردگی دکھانے میں ناکام رہی جب کہ پاکستان کی ٹیکنیکی برتری چین کی مدد سے حاصل کردہ ٹیکنالوجی پر مبنی ہے۔ اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے بھارتی وزیراعظم کو ایک خط میں پارلیمنٹ کا فوری خصوصی اجلاس بلانے کی درخواست کی ہے تاکہ بھارت کی بڑھتی ہوئی سیکیورٹی اور سفارتی صورتحال پر پارلیمنٹ کی توجہ دی جاسکے۔
دس مئی کو جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر 5 بجے سے جنگ بندی کا اعلان کیا، بھارتی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ انڈس واٹرز معاہدہ مؤخر رہنے کے فیصلے پر عملدرآمد جاری رہے گا۔ یہ بات پاکستانی حکام اور عوام کے لیے بہت سنجیدہ تشویش کا باعث ہونی چاہیے۔
”بین الاقوامی قانون کے تحت، اپر ریپیرین (اوپری دریا کنارے والے) ملک کی حیثیت سے ہندوستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ پاکستان کو مختص مغربی دریاؤں — سندھ، جہلم، چناب — پر بند نہ بنائے اور نہ ہی پانی کا رخ پاکستان کی جانب سے موڑے یا روکے۔ جبکہ مشرقی دریاؤں — راوی، بیاس، ستلج — کا پانی ہندوستان کے لیے مخصوص ہے۔ دوسرے الفاظ میں، ہندوستان کو پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کرنا چاہیے — نہ تو سیلاب کے دوران پانی چھوڑ کر راستے میں واقع شہروں کو ڈبونے کی اجازت ہے، اور نہ ہی خشک سالی کے دوران پانی کے بہاؤ کو مکمل طور پر روکنا جائز ہے۔“
سابق امریکی سفیر ڈیوڈ مل فورڈ کی 25 فروری 2005 کی کیبل میں بھارت کی طرف سے بگلیہار ڈیم کی تعمیر کے تنازعے پر اظہار تشویش کیا گیا تھا، جو آئی ڈبلیو ٹی کی خلاف ورزی تھی۔ انہوں نے امید ظاہر کی تھی کہ یہ سیاسی طور پر کشیدہ تعطل اسلام آباد کے بدترین منظرنامے میں تبدیل نہیں ہوگا، یعنی بھارت کے کشمیر میں موجود ڈیم امن کے عمل کو تباہ کرنے یا جنگ کی صورت میں تبدیل ہونے کا سبب نہیں بنیں گے ۔ یہ مؤقف حال ہی میں 25 اپریل کو جاری کردہ ایک اعلامیے میں دوبارہ واضح کیا گیا جو وزیرِاعظم کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطح اجلاس کے بعد جاری ہوا۔ اجلاس میں تینوں مسلح افواج کے سربراہان اور کابینہ کے سینئر ارکان نے شرکت کی، اعلامیے میں کہا گیا:انڈس واٹر ٹریٹی ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ معاہدہ ہے جو عالمی بینک کی ثالثی میں طے پایا تھا، اور اس معاہدے میں کسی بھی فریق کو اسے یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا کوئی اختیار حاصل نہیں۔
پانی پاکستان کے لیے ایک بنیادی قومی مفاد اور 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ضامن ہے، جس کی دستیابی کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جائے گا۔ انڈس واٹر ٹریٹی کے تحت پاکستان کے حصے کے پانی کو روکنے یا اس کا رخ موڑنے کی کوئی بھی کوشش، اور بطور نچلے دریائی فریق پاکستان کے حقوق پر قبضہ، ایک جارحانہ اقدام تصور کیا جائے گا — جس کا جواب پاکستان اپنی قومی طاقت کے تمام پہلوؤں سے بھرپور انداز میں دے گا۔
انڈس واٹر ٹریٹی کی فوری بحالی پاکستان کے لیے انتہائی اہم قومی معاملہ ہے اور امید کی جاتی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان پیر سے شروع ہونے والے مذاکرات میں یہ معاملہ ایجنڈے میں سرفہرست ہوگا۔
بھارت بخوبی جانتا ہے کہ انڈس واٹر ٹریٹی پاکستان کے لیے کس قدر اہم ہے، کیونکہ یہی معاہدہ ملک کی غذائی ضروریات پوری کرنے، کل افرادی قوت کے 37 فیصد کو روزگار فراہم کرنے اور خوراک کی درآمدات کم سے کم رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
لہٰذا یہ بات انتہائی اہم ہے کہ جب تک انڈس واٹر ٹریٹی بحال نہیں ہوتی، جنگ کے بادل چھٹ نہیں سکتے۔ اگرچہ کشمیر پاکستان کے لیے ایک بڑا اور مستقل مسئلہ ہے، جیسا کہ مغربی میڈیا میں بھی اجاگر کیا جارہا ہے، لیکن ہماری بقا کا انحصار اسی بات پر ہے کہ یہ معاہدہ دوبارہ مؤثر اور فعال ہو۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025