سندھ طاس معاہدے پر مذاکرات کیلئے تاحال بھارت سے کوئی رابطہ نہ ہوسکا، پانی کے بہائو میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ
اسلام آباد کو نئی دہلی کی جانب سے سندھ طاس معاہدے پر مذاکرات کی بحالی کے لیے اب تک کوئی باضابطہ پیغام موصول نہیں ہوا۔ یہ معاہدہ بھارت کی جانب سے 23 اپریل 2025 کو یکطرفہ طور پر معطل کر دیا گیا تھا، جو کہ بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر کے علاقے پہلگام میں پیش آنے والے واقعے کے اگلے روز ہوا۔ اس واقعے میں 26 سیاح ہلاک ہوئے تھے۔
پاکستانی حکام نے بتایا ہے کہ مقبوضہ کشمیر سے بہنے والے دریاؤں، خصوصاً دریائے چناب کے مرالہ ہیڈورکس پر پانی کے بہاؤ میں 8 سے 10 فیصد تک غیر معمولی اتار چڑھاؤ ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جو کسی خاص پیٹرن کے بغیر ہو رہا ہے۔
یاد رہے کہ سندھ طاس معاہدہ 1960 میں ورلڈ بینک کی ثالثی میں طے پایا تھا، جس پر اس وقت کے پاکستانی صدر فیلڈ مارشل ایوب خان اور بھارتی وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے کراچی میں دستخط کیے تھے۔ اس معاہدے کے تحت بھارت کو مشرقی دریاؤں (ستلج، بیاس اور راوی) کا اختیار حاصل ہے، جبکہ مغربی دریاؤں (سندھ، جہلم اور چناب) پاکستان کو دیے گئے ہیں۔
سالوں سے پاکستان بھارت کی جانب سے جہلم اور چناب پر ہائیڈرو پاور منصوبوں پر اعتراضات اٹھاتا رہا ہے، جن میں سے کئی معاملات عالمی عدالت انصاف اور ورلڈ بینک کے سامنے پیش کیے جا چکے ہیں۔
اگرچہ اس وقت اسلام آباد اور نئی دہلی کے درمیان جنگ بندی قائم ہے، جو کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کوششوں سے ممکن ہوئی، تاہم اب تک کسی غیر جانبدار مقام پر براہ راست سفارتی مذاکرات کے آثار نظر نہیں آ رہے۔
پاکستان کے لیے آئندہ مذاکرات میں اولین ایجنڈا سندھ طاس معاہدے کی فوری بحالی، مسئلہ کشمیر، اور بلوچستان و خیبر پختونخوا میں بھارت کی مبینہ مداخلت ہوگا۔
پاکستانی قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل نہیں کر سکتا کیونکہ ورلڈ بینک اس کا ضامن ہے۔
ایک اعلیٰ پاکستانی عہدیدار سے جب دریافت کیا گیا کہ آیا معاہدہ اب بھی معطل ہے اور کیا جلد مذاکرات کی توقع ہے، تو ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے بھارت کی جانب سے کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
دوسرے سرکاری ذرائع نے تصدیق کی کہ اگرچہ مقبوضہ کشمیر سے پانی کی آمد جاری ہے، لیکن بہاؤ میں نمایاں اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔
ان کے مطابق کہ ہم چناب کے مرالہ مقام پر پانی کے بہاؤ میں 10 فیصد تک تبدیلی دیکھ رہے ہیں۔ مرالہ کی گنجائش تقریباً 0.8 سے 0.9 ملین کیوسک ہے، لیکن حالیہ دنوں میں یہاں پانی کی آمد 25,000 سے 33,000 کیوسک کے درمیان رہی ہے۔ لگتا ہے کہ بھارت وقفے وقفے سے پانی کا بہاؤ روکتا اور پھر جاری کرتا ہے۔
پیر کے روز پاکستان میں مختلف مقامات پر پانی کے بہاؤ کی تفصیلات درج ذیل رہیں:
- دریائے سندھ (تربیلا): آمد 118900 کیوسک، اخراج 82000 کیوسک
- دریائے کابل (نوشہرہ): آمد و اخراج دونوں 40600 کیوسک
- خیرآباد پل: آمد و اخراج دونوں 157600 کیوسک
- دریائے جہلم (منگلا): آمد 44700 کیوسک، اخراج 28000 کیوسک
- دریائے چناب (مرالہ): آمد 29400 کیوسک، اخراج 10000 کیوسک
تاہم دریائے نیلم میں اب تک کوئی خاص تبدیلی نوٹ نہیں کی گئی، اور اس کا پانی منگلا ڈیم میں ذخیرہ کیا جا رہا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025