کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے تمام وزارتوں اور ڈویژنز کو ہدایت جاری کی ہے کہ آئندہ جب بھی کوئی تجویز ای سی سی کو منظوری کے لیے بھیجی جائے، اس کے ساتھ اخراجات کی مکمل تفصیل لازمی فراہم کی جائے تاکہ فیصلے بہتر معلومات کی بنیاد پر کیے جا سکیں۔ یہ ہدایات حالیہ ای سی سی اجلاس میں وزیراعظم کے پنکھا تبدیلی پروگرام سے متعلق پاور ڈویژن کی سمری پر بحث کے دوران جاری کی گئیں۔
اجلاس میں کمیٹی نے نیشنل انرجی ایفیشنسی اینڈ کنزرویشن اتھارٹی (این ای ای سی اے) پر ناراضی کا اظہار بھی کیا کہ ایک سال گزر جانے کے باوجود منصوبے پر عملدرآمد شروع نہیں ہو سکا۔
این ای ای سی اے جو کہ نیشنل انرجی ایفیشنسی اینڈ کنزرویشن ایکٹ 2016 کے تحت قائم کی گئی، ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال کو فروغ دینے کے لیے پالیسی سازی اور عملدرآمد کی ذمہ دار وفاقی ایجنسی ہے۔ اس کا کام توانائی کی بچت کے ترجیحی شعبوں کی نشاندہی کرنا اور عملی حل تیار کرنا ہے۔
وزیراعظم کی ہدایات کے تحت این ای ای سی اے نے ملک گیر ”پنکھا تبدیلی پروگرام“ ترتیب دیا ہے، جس کا مقصد ملک میں موجود 8 کروڑ 80 لاکھ پرانے اور بجلی ضائع کرنے والے پنکھوں کو توانائی بچانے والے پنکھوں سے تبدیل کرنا ہے۔ اس اقدام سے 5,000 میگاواٹ تک بجلی کی زیادہ طلب میں کمی متوقع ہے۔
اس پروگرام کو صارفین کی آسانی کے لیے آن بل فنانسنگ پر مبنی ڈیجیٹل کریڈٹ پروڈکٹ کے طور پر تیار کیا گیا ہے، جسے وزارت توانائی (پاور ڈویژن)، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، اور کمرشل بینکوں کے تعاون سے نافذ کیا جائے گا۔ پروگرام کے تحت ایک مکمل ڈیجیٹل پلیٹ فارم بنایا گیا ہے جہاں صارفین، پنکھا ساز ادارے، ڈسکوز اور بینک ایک ہی آن لائن پورٹل کے ذریعے منسلک ہوں گے۔
پاور ڈویژن نے اجلاس میں بتایا کہ مالی سال 25-2024 کے بجٹ میں اس منصوبے کے لیے 2 ارب روپے مختص کیے گئے تھے، جن میں سے:
- 1.5 ارب روپے اسٹیٹ بینک کے ذریعے 10 فیصد رسک کوریج گارنٹی کے لیے،
- جبکہ 50 کروڑ روپے این ای ای سی اے کے لیے پروگرام کے نفاذ اور آگاہی مہم پر خرچ ہونا تھے۔
پاور ڈویژن نے فنڈز کے اجرا کے لیے فنانس ڈویژن سے رجوع کیا، جس نے 31 جنوری 2025 کے خط کے ذریعے مالی سال 25-2024 کی پہلی اور دوسری سہ ماہی کے لیے 24 کروڑ 20 لاکھ روپے کے اجرا پر رضامندی ظاہر کی۔ تاہم بجٹ میں یہ فنڈز فنانس ڈویژن کی ڈیمانڈ نمبر 45 کے تحت رکھے گئے، حالانکہ یہ پاور ڈویژن کی ڈیمانڈ نمبر 33 کے تحت ہونے چاہییں تھے۔
لہٰذا ای سی سی سے 10 کروڑ 60 لاکھ روپے (106 ملین روپے) کے فنڈز کو فنانس ڈویژن کی ڈیمانڈ نمبر 45 سے پاور ڈویژن کی ڈیمانڈ نمبر 33 میں منتقل کرنے کی منظوری طلب کی گئی تاکہ رواں مالی سال میں وقت کی کمی کے باعث منصوبے پر پیشرفت ممکن ہو سکے۔
اجلاس کے دوران ای سی سی نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ ایک سال گزر جانے کے باوجود منصوبے پر عملدرآمد شروع نہیں ہو سکا۔ وضاحت میں بتایا گیا کہ منصوبے میں تاخیر کی بنیادی وجہ اسٹیٹ بینک اور کمرشل بینکوں کے درمیان عملدرآمد کے طریقہ کار کا حتمی طور پر طے نہ ہونا ہے۔
یہ بھی بتایا گیا کہ بینکوں کو اس منصوبے کے تقاضوں کو اپنے آئی ٹی سسٹمز میں شامل کرنے کے لیے سافٹ ویئر اپگریڈ کی ضرورت ہے۔ کمیٹی نے یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ سمری میں اخراجات کی تفصیل موجود نہیں تھی۔
پاور ڈویژن نے وضاحت کی کہ یہ فنڈز آئی ٹی انفراسٹرکچر کی خریداری، آگاہی مہمات، سسٹم انضمام، اور انسانی وسائل کی مد میں استعمال ہوں گے، اور یہ کہ مقامی پنکھا ساز اداروں کو بھی آگاہی مہم میں اخراجات برداشت کرنے کی ترغیب دی جائے گی۔
بحث کے بعد ای سی سی نے پاور ڈویژن کی تجویز منظور کرتے ہوئے 10 کروڑ 60 لاکھ روپے کی ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ کی منظوری دے دی، اور فنانس ڈویژن کو ہدایت کی کہ وہ اسٹیٹ بینک اور کمرشل بینکوں کے ساتھ مل کر منصوبے کی عملدرآمدی تفصیلات کو حتمی شکل دینے میں پاور ڈویژن کی مدد کرے۔
مزید برآں، ای سی سی نے تمام وزارتوں اور ڈویژنز کو ہدایت کی کہ آئندہ تمام سمریوں میں اخراجات کی مکمل تفصیل لازمی شامل کی جائے تاکہ ای سی سی بہتر معلومات کی بنیاد پر فیصلے کر سکے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025