وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات احسن اقبال نے متعلقہ وزارتوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ آئندہ پانچ برسوں میں 60 ارب ڈالر کی برآمدات کے ہدف کے حصول کے لیے جامع بزنس پلانز تیار کریں۔
پیر کے روز وفاقی وزیرمنصوبہ بندی نے ”اُڑان پاکستان“ پروگرام کے تحت برآمدات پر مبنی ترقیاتی حکمت عملی کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کی۔ یہ اجلاس حکومت کے ”پانچ ایز“ فریم ورک کے تحت پہلے عنصر ”برآمدات“ کے سلسلے کا پہلا دوماہی جائزہ اجلاس تھا، جو پاکستان کو 2035 تک ایک کھرب ڈالر کی معیشت میں تبدیل کرنے کا روڈمیپ فراہم کرتا ہے۔
اجلاس کے دوران احسن اقبال نے متعلقہ تمام وزارتوں کو ہدایت دی کہ وہ مخصوص ورکنگ گروپس تشکیل دیں، کلسٹر کی بنیاد پر بزنس پلانز تیار کریں، قابلِ پیمائش برآمدی اہداف مقرر کریں اور آئندہ دو ہفتوں میں ہونے والے جائزہ اجلاس سے قبل جامع عملی منصوبے جمع کرائیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آئندہ پانچ برسوں میں برآمدات میں 60 ارب ڈالر کا اضافہ ایک قومی مشن ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ یہ معمول کا کام نہیں ہے، ہمیں ماضی سے بالکل مختلف اور انقلابی انداز اپنانا ہوگا۔ یہ 100 میٹر کی دوڑ ہے، ہمیں اپنے حریفوں سے زیادہ تیزی سے بھاگنا ہوگا تاکہ عالمی منڈیوں میں جگہ بنا سکیں۔
وزیر منصوبہ بندی نے ڈیٹا پر مبنی منصوبہ بندی اور ویلیو چین کی ترقی پر زور دیتے ہوئے منصوبہ بندی کی وزارت کو ہدایت کی کہ فوری طور پر جامع ڈیٹا اینالیسز کا عمل شروع کیا جائے تاکہ ملکی صلاحیتوں کا جائزہ لیا جا سکے اور عالمی رجحانات کی نقشہ بندی کی جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک ہمارے پاس درست اور مکمل ڈیٹا نہیں ہوگا، ہماری وسائل ضائع ہو جائیں گے۔ ہمیں ڈرائنگ بورڈ پر بیٹھ کر اپنی صلاحیتوں کو عالمی طلب کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ہوگا۔
احسن اقبال نے کہا کہ برآمدات کا فروغ صرف ایل سی کھولنے یا کنٹینرز بھیجنے تک محدود نہیں بلکہ اس کے لیے مکمل ایکو سسٹم کی ضرورت ہے، جس میں ریگولیٹری کمپلائنس، سرٹیفیکیشن، برانڈنگ اور عالمی سپلائی چین سے انضمام شامل ہے۔ انہوں نے کہا: ”میڈ اِن پاکستان“ کو معیار، پیداواری صلاحیت اور پائیداری کی علامت بنانا ہوگا۔
اس مقصد کے لیے منصوبہ بندی کی وزارت نے برآمدات کے فروغ کے لیے آٹھ اسٹریٹجک کلسٹرز کی نشاندہی کی ہے، جو پاکستان کی مستقبل کی برآمدات کی بنیاد بنیں گے:
1 . زراعت اور زرعی مصنوعات کی برآمدات2 . صنعت اور مینوفیکچرنگ (ٹیکسٹائل، انجینئرنگ، فارماسیوٹیکل وغیرہ)3 . سروسز (آئی ٹی کے علاوہ مالیاتی خدمات، میڈیکل ٹورازم، کنسلٹنسی وغیرہ)4 . انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل سروسز5 . کان کنی اور معدنیات6 . انسانی وسائل کی برآمدات اور بیرون ملک روزگار7 . بلیو اکانومی (بحری شعبے)8 . تخلیقی صنعتیں (میڈیا، فنون، ثقافت)
ہر کلسٹر ایک متعلقہ وزارت کے سپرد کیا گیا ہے، جسے ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ اپنی حدود میں آنے والی مصنوعات اور شعبہ جات کے لیے تفصیلی اور بین الوزارتی بزنس پلانز تیار کرے۔
اپنی گفتگو میں احسن اقبال نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی ماحولیاتی اور کوالٹی اسٹینڈرڈز، بشمول جی ایس پی پلس جیسے ترجیحی تجارتی معاہدوں کے لیے درکار سرٹیفیکیشنز پر مکمل عملدرآمد کیا جائے۔
انہوں نے اس ہدف کو معاشی ایمرجنسی قرار دیتے ہوئے وزارت تجارت کو ہدایت کی کہ وہ 60 ارب ڈالر کے ہدف کو آٹھ شعبوں میں تقسیم کرے، قابل عمل پالیسی اقدامات تجویز کرے، اور صوبائی و نجی شعبے کے شراکت داروں سے قریبی رابطہ رکھے۔ انہوں نے کہا کہیہ ایک قومی کوشش ہے۔ جس طرح ہماری فضائیہ نے ہمیں فخر دلایا ہے، ویسے ہی ہمارے معاشی اداروں کو بھی قوم کا فخر بننا ہوگا۔
آخر میں وزیر منصوبہ بندی نے 80/20 اصول (زیادہ اثر والے منصوبوں پر توجہ) پر عمل کی اہمیت کو اجاگر کیا اور اعلان کیا کہ ”اُڑان پاکستان“ فریم ورک کے تحت ہر ”برآمدات“ پر دو ہفتوں بعد جائزہ اجلاس ہوگا تاکہ سختی سے عملدرآمد اور جوابدہی کو یقینی بنایا جا سکے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025