یہ فی الحال ایک جنگ بندی ہے، اگرچہ نازک ۔ بھارت کے وزیرِاعظم نریندر مودی، جو حکمران جماعت بی جے پی کے نظریاتی سر چشمہ آر ایس ایس کے دباؤ میں ہیں، آئندہ مستقبل میں کشیدگی کو بڑھا سکتے ہیں۔ چاہے کھلی جنگ سے گریز کیا جائے، دائیں بازو حکومت اور اس کا جنونی میڈیا حقائق کو مسخ کرنے اور پاکستان کے خلاف جھوٹا پراپیگنڈا پھیلانے کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ ہمیں ایک طویل المدتی نقطہ نظر اختیار کرنا ہوگا۔

دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی کے جلد خاتمے کے امکانات کم ہیں۔ پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر اپنی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کرنے کیلئے شدت پسند عناصر سے خود کو الگ کرتے ہوئے سنجیدہ اصلاحات، خصوصاً معاشی اصلاحات، کو اپنانا ہوگا۔ مودی کی حکومت بھارت کو اندرونی طور پر نقصان پہنچارہی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان فرق کم ہوتا جا رہا ہے۔ پاکستان کو اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔

لیکن یہ سب کچھ صرف معاشی خودمختاری اور قانون کی حکمرانی کے قیام سے ہی ممکن ہے۔ بھارت باوجود اس کے کہ وہ خود غلطی پر ہے، پاکستان کو دھمکانے کی کوشش اس لیے جاری رکھے ہوئے ہے کیونکہ پاکستان اندرونی طور پر کمزور ہے۔ ہماری معیشت گزشتہ تین دہائیوں سے بحران کا شکار ہے جس میں بار بار بیرونی قرضوں کی تنظیمِ نو اور حالیہ ڈیفالٹ کے خطرات شامل ہیں۔ خارجہ پالیسی اب صرف دوست ممالک اور عالمی مالیاتی اداروں سے بیل آؤٹ مانگنے تک محدود ہوکر رہ گئی ہے، اس کے نتیجے میں ملک اپنی خودداری کھو رہا ہے۔

ملک کے اندر سیاسی عدم استحکام میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، یہ ایک حقیقت ہے کہ 2024 کے انتخابات میں عوامی مینڈیٹ کو مجروح کیا گیا۔ یہی بات بظاہر ملک میں سیاسی و معاشی استحکام کی عدم موجودگی کی بنیادی وجہ نظر آتی ہے۔ بلاشبہ، بھارت نے اس وقت حملہ کرنے کی کوشش کی جب پاکستان اندرونی اور بیرونی طور پر کمزور دکھائی دے رہا تھا، لیکن اس کی یہ چال غلط ثابت ہوئی۔

عوام نے ہمیشہ داخلی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ملکی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے سیکیورٹی فورسز کے پیچھے یکجہتی کے ساتھ کھڑے ہوکر ساتھ دیا ہے۔

بین الاقوامی سطح پر چین نے ایک حقیقی اسٹریٹجک اتحادی کے طور پر اپنی حیثیت کی توثیق کی۔ بھارت کو پیچھے دھکیل دیا گیا۔ پاکستان خوش قسمت رہا — لیکن اب وہ صرف خوش قسمتی پر انحصار نہیں کر سکتا۔ اسے آئندہ جارحیت کو روکنے کے لیے تیاری کرنی ہوگی اور اس کا آغاز اندرونی مضبوطی اور بامعنی اصلاحات سے ہوتا ہے، ہمیں بین الاقوامی احترام استحکام،شمولیت اور خودانحصاری کے ذریعے کمانا ہوگا۔

سیاسی تنازعات کا حل ضروری ہے۔ معاشی پالیسی کو تمام صوبوں کے تحفظات کو مدنظر رکھ کر قومی یکجہتی کو فروغ دینا چاہیے۔ عدم مساوات کم کی جائے اور ٹیکس کا بوجھ منصفانہ انداز میں تقسیم کیا جائے۔ حکومت کو چاہیے کہ کفایت شعاری اپناتے ہوئے اپنے حجم میں کمی لائے اوربڑی تنخواہوں کو کم کرے تاکہ ایک درست مثال قائم ہو۔

حکومت اور اسٹیٹ بینک کو طویل مدتی سرمایہ کاری کی حکمت عملیوں پر توجہ دینی چاہیے، جبکہ سیاسی اور ٹیکس کے چیلنجز کا براہ راست مقابلہ کرنا ہوگا۔ پاکستان مزید جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا؛ اس کی نازک معیشت دباؤ کے تحت گر سکتی ہے۔ ہمیں زرمبادلہ ذخائر کو دوبارہ تعمیر کرنا ہوگا اور سرمایہ کاری کو متوجہ کرنا ہوگا۔

یہ خود کو ایک دشمن کے خلاف دفاع کرنے کے لیے ضروری ہے۔ حالیہ کشیدگی کو ایک ویک اپ کال کے طور پر لینا چاہیے۔ اس لیے یہ وقت آ چکا ہے کہ قوم یہ سوچے کہ شاید یہ آخری موقع ہے جب ہم بغیر کسی تاخیر کے اپنے معاملات کو درست کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں کرسکتے ہیں۔ امریکی صدر اور قسمت، دونوں نے پاکستان اور بھارت کے لیے کرشمے کا کام کیا ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025