مالی سال 25 کے پہلے دس مہینوں کے دوران پاکستان کو ترسیلات زر کی مد میں 31.2 ارب ڈالر موصول ہوئے، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح ہے۔ یہ گزشتہ سال کے اسی عرصے میں موصول ہونے والے 23.9 ارب ڈالر کے مقابلے میں سالانہ 31 فیصد کا شاندار اضافہ ہے۔
یہ اضافہ نہ صرف ملک کے نازک بیرونی کھاتے کے لیے ایک اہم سہارا ہے بلکہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی معاشی استقامت کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ تاہم، اس مجموعی مضبوطی کے باوجود، اپریل 2025 میں ترسیلات میں نمایاں کمی دیکھی گئی جو مارچ کے مقابلے میں ماہانہ 22 فیصد کم رہیں۔
مارچ کے دوران ترسیلات میں نمایاں اضافہ رمضان اور عید سے جڑے سیزنل عوامل سے جوڑا جا رہا تھا۔
اپریل میں آنے والی کمی، اگرچہ کسی حد تک متوقع تھی، لیکن یہ اندازوں سے کہیں زیادہ بڑی نکلی اور آنے والے مہینوں میں ترسیلات کے تسلسل کے حوالے سے نئی تشویش کو جنم دے رہی ہے۔ تاہم، سالانہ کے اعتبار سے اپریل 2025 میں اب بھی 13.1 فیصد کی صحت مند ترقی دیکھی گئی، جو مجموعی رجحان کو مثبت ظاہر کرتی ہے۔ البتہ اس رجحان میں پایا جانے والا اتار چڑھاؤ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ پالیسی ساز محتاط رہیں۔
سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سب سے بڑے ترسیلاتی ذرائع رہے۔ سعودی عرب سے مالی سال 25 کے ابتدائی دس ماہ کے دوران 7.6 ارب ڈالر موصول ہوئے، جبکہ یو اے ای سے 6.36 ارب ڈالر کی ترسیلات آئیں۔ برطانیہ سے 4.78 ارب ڈالر اور امریکہ سے 3.12 ارب ڈالر کی ترسیلات موصول ہوئیں۔ یہ چاروں ذرائع مجموعی ترسیلات کا دو تہائی سے زائد حصہ فراہم کرتے ہیں۔
ترسیلات کی رسمی ذرائع سے آمد میں اضافہ بہتر ضوابط اقدامات، اوپن مارکیٹ اور سرکاری شرحِ مبادلہ کے درمیان فرق کے کم ہونے اور ڈیجیٹل چینلز کی بہتر رسائی کی بدولت ممکن ہوا۔ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ اور راعت جیسے پروگراموں نے بھی اپنا کردار ادا کیا، اگرچہ اب ان کی مقبولیت میں استحکام آ رہا ہے۔
ملکی معیشت میں حالیہ بحالی نے بھی ترسیلات میں اضافے کو سہارا دیا۔ ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کے ایک ورکنگ پیپر کے مطابق، ترسیلات پر اثر انداز ہونے والے میکرو اکنامک عوامل بھیجنے اور وصول کرنے والے دونوں ممالک میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ اس تحقیق کے مطابق، بیرونِ ملک معاشی سرگرمیاں، خصوصاً خلیجی اور مغربی معیشتوں میں، ترسیلات کی آمد کے اہم محرک ہیں۔
جب تارکین وطن کے روزگار اور آمدنی کے امکانات بہتر ہوتے ہیں تو وہ ترسیلات بھی زیادہ بھیجتے ہیں۔ اسی طرح، پاکستان میں مہنگائی میں اضافہ ترسیلات کو بڑھاتا ہے کیونکہ بیرون ملک پاکستانی مہنگائی کے اثرات سے اپنے اہل خانہ کو بچانے کے لیے زیادہ پیسے بھیجتے ہیں۔ حیران کن طور پر، ملکی شرح سود کا ترسیلات پر مثبت اثر کچھ تاخیر سے ظاہر ہوتا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ بلند منافع کے مواقع بالآخر مالی ترسیلات کو بڑھاتے ہیں۔
اس کے علاوہ، تیل کی قیمتوں میں اضافہ، خاص طور پر سعودی عرب سے، ترسیلات میں اضافے سے منسلک ہے۔ جب خلیجی معیشتیں تیل سے زیادہ آمدنی حاصل کرتی ہیں تو روزگار اور اجرتوں میں اضافہ ہوتا ہے، جس کے اثرات بڑھتی ہوئی ترسیلات کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں۔
تاہم، رپورٹ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ کچھ ساختی اور مستقل عوامل—جیسے تارکین وطن کی تعداد، ترسیلات کی منتقلی کی لاگت، اور ثقافتی رجحانات—ابھی بھی سب سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ترسیلات عام طور پر معاشی اتار چڑھاؤ کے باوجود جاری رہتی ہیں، اگرچہ ان کی رفتار میں فرق آ سکتا ہے۔
مستقبل کی طرف دیکھیں تو، اگر کوئی بڑا بیرونی دھچکا نہ لگا تو پاکستان کی مالی سال 2025 کی کل ترسیلات 36 ارب ڈالر سے تجاوز کر سکتی ہیں۔ تاہم، آنے والے مہینوں میں خلیجی ممالک میں معاشی سرگرمیوں میں نرمی، میزبان ممالک میں مہنگائی میں اضافہ، اور رسمی ذرائع کے ذریعے ترسیلات کے لیے مراعات میں ممکنہ کمی، ترسیلات کے بہاؤ کو متاثر کر سکتی ہیں۔ مزید یہ کہ، شرح مبادلہ کے استحکام کے بعد لوگ جلد بازی میں یا رسمی بینکاری ذرائع سے ترسیلات بھیجنے کی ضرورت محسوس نہیں کریں گے۔