جنگ بندی کے بعد پاکستان اور بھارت کی اسٹاک مارکیٹس میں تیزی کی توقع
- پاکستان کی مارکیٹس میں بحالی کی توقع ہے کیونکہ آئی ایم ایف منظوری اور شرح سود میں کمی نے بحران کے خوف کو کم کیا ہے۔
بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق، بھارت اور پاکستان کے درمیان اچانک جنگ بندی کے معاہدے کے بعد دونوں ممالک کی اسٹاک مارکیٹس میں پیر کو اضافہ متوقع ہے، کیونکہ سرمایہ کاروں کی توجہ دوبارہ بہتر ہوتی ہوئی معاشی صورتحال کی جانب مبذول ہو رہی ہے۔
بھارت میں غیر ملکی سرمایہ کار، جنہوں نے حالیہ جھڑپوں سے قبل 16 دنوں تک شیئرز کی مسلسل خریداری کی تھی، اب جب کہ کشیدگی کم ہو گئی ہے، دوبارہ سرمایہ کاری شروع کر سکتے ہیں۔
پاکستان کے لیے، آئی ایم ایف کی جانب سے ایک ارب ڈالر کی فوری قسط کی منظوری اور 1.4 ارب ڈالر کے نئے پروگرام کی منظوری جو ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے میں مدد دے گا، کمزور معیشت کے لیے ایک اہم سہارا ثابت ہو سکتا ہے۔
ممبئی میں واقع پائپر سیریکا ایڈوائزرز پرائیویٹ لمیٹڈ کے چیف انویسٹمنٹ آفیسر ابھے اگروال کا کہنا ہے کہ شارٹ کورنگ اور غیر استعمال شدہ فنڈز کی ازسرِنو تعیناتی کی وجہ سے پیر کو مارکیٹ میں تیزی آئے گی۔ اب توجہ بنیادی معاشی عوامل پر ہونی چاہیے۔“
جمعہ کو بھارت کی نِفٹی 50 انڈیکس میں ایک ماہ سے زائد عرصے کے دوران سب سے زیادہ یعنی ایک فیصد سے زیادہ کمی ہوئی، جبکہ بھارتی روپیہ ایشیا کی بدترین کارکردگی دکھانے والی کرنسیوں میں شامل رہا۔ بانڈز کے منافع میں اضافہ ہوا، مگر ریزرو بینک آف انڈیا کی مداخلت سے نقصانات محدود رہے۔ کشمیر پر 22 اپریل کے حملے اور اس کے بعد بھارتی جوابی کارروائی کے بعد سے پاکستان اسٹاک مارکیٹ 9 فیصد گر چکی ہے۔
بھارت میں پیر کو پبلک ہالیڈے کے باعث بانڈ اور فارن ایکسچینج مارکیٹس بند رہیں گی۔
جیسے ہی جنگ کے خطرات کم ہوتے ہیں، بھارت میں سرمایہ کاروں کی توجہ امریکی تجارتی معاہدے کی امید، وافر لیکویڈیٹی، اور ریزرو بینک آف انڈیا کی متوقع شرح سود میں کمی پر مرکوز ہو رہی ہے۔
پاکستان میں، تاجر بھی ایک ریلیف ریلی کی توقع کر رہے ہیں، کیونکہ سرحدی کشیدگی نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی شرح سود میں حیران کن کمی اور آئی ایم ایف کی ممکنہ مزید فنڈنگ جیسے مثبت اشاروں کو بے اثر کر دیا تھا۔
کراچی میں ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے سی ای او محمد سہیل کا کہنا ہے، “اگر صورتحال آج کے بعد مستحکم رہتی ہے، تو میں پاکستان اسٹاک مارکیٹ کو 5 فیصد کا اپر سرکٹ لگاتے دیکھ رہا ہوں۔
تاہم کشیدگی کے دوبارہ بڑھنے کا خدشہ برقرار ہے، کیونکہ بھارت نے تاحال سندھ طاس معاہدے کی معطلی ختم نہیں کی — جو کہ پاکستان کی زرعی پیداوار کو سخت نقصان پہنچا سکتا ہے۔
دوسری جانب ایک سینئر بھارتی سفارت کار نے دعویٰ کیا ہے کہ جنگ بندی کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد ہی پاکستان نے اس کی خلاف ورزی کی، جس کی پاکستان نے تردید کی ہے۔
ایکوریس سیکیورٹیز کے ہیڈ آف ڈیریویٹیوز ٹریڈنگ تیجس شاہ کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کے تسلسل اور دونوں فریقین کے بیانات پر گہری نظر رکھنا ضروری ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ پیر کو بھارتی مارکیٹ میں 4 سے 5 فیصد کا اضافہ ہوگا۔ اگر ایسا ہوا تو کچھ سرمایہ کار فوری منافع سمیٹنے کے لیے مارکیٹ سے نکلیں گے۔