نیپرا کے رکن کا بجلی کے شعبے میں ناقص نظام، غیر فعال پلانٹس کو ادائیگیوں اور ترسیلی رکاوٹوں پر شدید تحفظات کا اظہار
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کے رکن ٹیکنیکل رفیق احمد شیخ نے ملک کے بجلی کے ترسیلی نظام میں سنگین خامیوں کی نشاندہی کی ہے، جس کے باعث نہ صرف صارفین کو مہنگی بجلی برداشت کرنا پڑی بلکہ تین کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹس کو نہ ہونے کے برابر استعمال کے باوجود 69 ارب روپے کی کیپیسٹی ادائیگیاں بھی کی گئیں۔
رفیق احمد شیخ نے یہ نکات تیسری سہ ماہی کے کوارٹرلی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ (کیو ٹی اے) اور مارچ 2025 کے فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) پر دیے گئے اپنے اضافی نوٹس میں اٹھائے۔ انہوں نے کے-الیکٹرک اور نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی) کے نظام کو باہم مربوط کرنے میں تاخیر پر بھی ایک علیحدہ نوٹ جاری کیا، جس کی وجہ سے کے-الیکٹرک کے صارفین کو مناسب نرخوں کا فائدہ نہیں مل سکا۔
نیپرا نے حالیہ فیصلے میں صارفین کو ریلیف فراہم کرتے ہوئے فی یونٹ 1.55 روپے کمی کی منظوری دی ہے، جس سے مئی، جون اور جولائی 2025 میں بجلی کے بلوں میں 52.6 ارب روپے کا مجموعی فائدہ ہوگا۔ ڈسکوز کے لیے فی یونٹ 0.29 روپے اور کے-الیکٹرک کے لیے 3.64 روپے کی منفی ایڈجسٹمنٹ کی گئی ہے۔
رفیق احمد کے مطابق تیسری سہ ماہی میں ڈسکوز نے 362.39 ارب روپے کی صلاحیتی ادائیگیوں کا دعویٰ کیا، جو ریفرنس فگر 459.28 ارب روپے سے کم ہے۔ اس دوران بجلی کی فروخت بھی 21,846 جی ڈبلیو ایچ کی بجائے 19,968 جی ڈبلیو ایچ رہی۔
ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ کچھ مہنگے اور پرانے پاور پلانٹس کے معاہدوں کی مدت ختم ہونے اور کچھ آئی پی پیز سے متعلق ایڈجسٹمنٹ کی وجہ سے ادائیگیاں کم ہوئیں، لیکن بہتر گورننس اور مؤثر انتظام سے بجلی کی فروخت میں مزید اضافہ اور زیادہ ریلیف ممکن تھا۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ گڈو، مظفرگڑھ اور جامشورو کے تین سرکاری پاور پلانٹس نے بغیر بجلی پیدا کیے 1.237 ارب روپے کی کیپسیٹی ادائیگیاں وصول کیں۔ یہ پلانٹس نہ صرف ناکارہ ہیں بلکہ مستقبل میں بھی ان سے بجلی لینے کا امکان نہیں۔
اس کے علاوہ جنوبی پاکستان میں موجود سستے اور مؤثر پاور پلانٹس جیسے کہ پورٹ قاسم، چائنا پاور، اور لکی الیکٹرک ترسیلی رکاوٹوں کے باعث انتہائی کم استعمال ہوئے— ان کے استعمال کی شرح بالترتیب 1 فیصد, 10 فیصد اور 0 فیصد رہی، لیکن ان پلانٹس کو مجموعی طور پر 69.09 ارب روپے کی ادائیگیاں کی گئیں۔
مارچ 2025 کے ایف سی اے پر رفیق احمد شیخ نے کہا کہ بجلی کی پیداوار ریفرنس کے مقابلے میں 8.5 فیصد کم رہی، جس کی ایک بڑی وجہ اے ٹی اینڈ سی پر مبنی لوڈشیڈنگ تھی۔ اس لوڈشیڈنگ نے نہ صرف عوام کو مشکلات میں ڈالا بلکہ مہنگے ٹیک اینڈ پے پلانٹس کے کم استعمال کی وجہ سے قیمتیں بڑھیں۔
انہوں نے گڈو 747ایم ڈبلیو پاور پلانٹ کے اسٹیم ٹربائن یونٹ 16 کی جولائی 2022 سے بندش کو بھی شدید نقصان دہ قرار دیا، جس سے مارچ 2025 میں 0.68 ارب روپے اور مالی سال کے دوران اب تک 6.41 ارب روپے کا نقصان ہوا۔ اس پلانٹ کو اوپن سائیکل موڈ پر چلانے سے مہنگے پلانٹس سے بجلی لینا پڑی، جس سے صرف مارچ میں 24 ارب روپے اور سال بھر میں 110 ارب روپے اضافی لاگت آئی۔
اسی طرح نیلم جہلم ہائیڈروپاور پلانٹ کی بندش نے مارچ 2025 میں 4.5 ارب روپے اور مالی سال میں اب تک 28 ارب روپے کے اضافی اخراجات کا بوجھ ڈالا۔
انفراسٹرکچر کی ناکامی کے باعث ایچ وی ڈی سی سسٹم صرف 32 فیصد پر چلا، جبکہ صارفین کو مکمل صلاحیت کی قیمت چکانا پڑی۔ اسی طرح ترسیلی رکاوٹوں سے مارچ میں 0.62 ارب روپے اور مالی سال میں اب تک 12.31 ارب روپے کا نقصان ہوا۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ اگر کے-الیکٹرک اور این ٹی ڈی سی کا باہمی رابطہ منصوبے کے مطابق 2,000 ایم ڈبلیو تک بڑھا دیا جاتا، تو صارفین کو مزید سستی بجلی مل سکتی تھی۔ کے-الیکٹرک کی اندرونی پیداوار کی فی یونٹ لاگت 20.01 روپے جبکہ این ٹی ڈی سی کی 8.23 روپے ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ بجلی کے شعبے میں اصلاحات، مؤثر گورننس، ترسیلی رکاوٹوں کا خاتمہ اور باہمی رابطوں کی فوری تکمیل ناگزیر ہے، تاکہ صارفین کو مستقل بنیادوں پر ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025