سپریم کورٹ کی آئینی بنچ (سی بی) نے 9 مئی 2023 کے فسادات میں ملوث شہریوں کے خلاف فوجی عدالتوں میں مقدمہ چلانے کی اجازت دیدی ہے۔

پیر کو اٹارنی جنرل آف پاکستان (اے جی پی) کے دلائل مکمل ہونے پر بنچ نے رواں ہفتے اپنا مختصر فیصلہ سنایا۔

جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس سید حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل 7 رکنی آئینی بینچ نومبر 2024 سے کیس کی سماعت کر رہا ہے۔

دسمبر 2024 میں سپریم کورٹ کی آئینی بنچ نے مشروط طور پر فوجی عدالتوں کو 9 مئی 2023 کے فسادات میں ملوث 85 افراد کے حوالے سے فیصلہ سنانے کی اجازت دی تھی، جو اب تک فوج کی تحویل میں ہیں۔

اس کے بعد فوجی عدالتوں نے پرتشدد حملوں میں ملوث 85 شہریوں کو 2 سے 10 سال تک قید کی سزا سنائی تھی۔

اس دوران فوجی عدالتوں نے 19 افراد کو معاف بھی کردیا تھا۔

پس منظر

سابق چیف جسٹس پاکستان جسٹس جواد ایس خواجہ، سینئر وکیل چودھری اعتزاز احسن، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان اور سول سوسائٹی کے اراکین نے آئین کے آرٹیکل 184 (3) کے تحت سپریم کورٹ میں درخواستیں دائر کیں تھیں جس میں عدالت سے یہ درخواست کی گئی کہ وہ یہ حکم جاری کرے کہ 9 اور 10 مئی کے احتجاج کے دوران گرفتار ہونے والے شہریوں کے مقدمات آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکریٹس ایکٹ کے تحت چلانا آئین کے آرٹیکل 25 کی خلاف ورزی ہے، جب تک کہ ایسے مقدمات چلانے کے لیے قانونی اور معقول رہنما خطوط تیار نہ کیے جائیں تاکہ شہریوں کو آرمی ایکٹ کے تحت بلا جواز مقدمات سے بچایا جا سکے۔

یاد رہے کہ 9 مئی کو اسلام آباد ہائی کورٹ کی عمارت سے پی ٹی آئی کے چیئرمین کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کے حامیوں نے سڑکوں پر نکل کر شدید احتجاج کیا تھا۔

احتجاج کرنے والوں نے کئی فوجی اور سرکاری تنصیبات کو نقصان پہنچایا تھا جن میں لاہور میں کور کمانڈر ہاؤس (جناح ہاؤس) اور راولپنڈی میں جی ایچ کیو کے دروازے شامل تھے۔