وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بدھ کو موجودہ مالیاتی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا۔ واضح رہے کہ اجلاس حالیہ بھارتی جارحیت کے تناظر میں علاقائی کشیدگی کے بڑھنے کے بعد منعقد کیا گیا۔

فنانس ڈویژن کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق اجلاس میں گورنر اسٹیٹ بینک، چیئرمین سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی)، سیکرٹری خزانہ اور فنانس ڈویژن کے سینئر حکام نے شرکت کی۔

بیان میں کہا گیا کہ شرکاء نے ایکوئٹی، قرض، فاریکس اور بینک کے درمیان مارکیٹوں کی صورتحال کا جائزہ لیا، فوری طور پر خطرات کی تشخیص کی اور موجودہ حالات میں قومی مالی استحکام اور سیکیورٹی کو یقینی بنانے پر زور دیا۔

یہ اجلاس دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان 20 سال سے زائد عرصے میں سب سے شدید جھڑپوں کے بعد منعقد ہوا ہے، جس میں کشمیر کی سرحد پر گولہ باری اور فائرنگ کے ساتھ بھارت نے پاکستان کے اندر اہداف کو نشانہ بنایا۔

وزیر دفاع پاکستان خواجہ آصف نے اس سے قبل بلومبرگ کو بتایا تھا کہ پاکستان نے پانچ بھارتی طیارے مار گرائے ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی میزائل حملوں میں 26 پاکستانی شہید اور 45 زخمی ہوگئے۔

ترجمان پاک فوج کا کہنا ہے کہ بھارتی میزائل بہاولپور، کوٹلی اور مظفر آباد سمیت مختلف مقامات پر داغے گئے جب کہ اس نے نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پر بھی حملہ کیا۔

اجلاس کے دوران شرکاء نے مارکیٹ کے استحکام کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے تمام مالیاتی اور متعلقہ شعبوں میں کاروباری تسلسل برقرار رکھنے کے لئے حکومت کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ اسٹیک ہولڈرز کو اہم یقین دہانیاں کرائی گئیں جن میں اس بات پر زور دیا گیا کہ پاکستان کے معاشی انفرااسٹرکچر کے تحفظ اور مالیاتی منڈیوں کو پرسکون، واضح اور اعتماد فراہم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔

فنانس ڈویژن نے کہا کہ شرکاء نے سائبر سیکیورٹی اور کمیونیکیشن انفرااسٹرکچر پر خصوصی توجہ کے ساتھ وسیع پیمانے پر خطرات کے خلاف سخت نگرانی کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ آپریشنل لچک کو یقینی بنانے اور مالیاتی اداروں کے درمیان محفوظ مواصلاتی لائنوں کو برقرار رکھنے کے لیے ہنگامی منصوبوں کو مضبوط کیا گیا ہے، یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ بدلتی ہوئی صورتحال کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جائے گا تاکہ مالیاتی منڈیوں و وسیع کاروباری کمیونٹی کو رہنمائی اور اطمینان فراہم کیا جاسکے۔

اجلاس کے دوران محمد اورنگزیب نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان کا مالیاتی نظام مستحکم اور محفوظ ہے، اور تمام متعلقہ ادارے اُبھرتے ہوئے چیلنجز کا مقابلہ کرنے اور قومی معیشت کی سالمیت کو برقرار رکھنے کے لیے قریبی تعاون کے ساتھ کام کررہے ہیں۔