پاکستان

پاکستان نے میزائل حملے کے جواب میں بھارتی فضائیہ کے 5 طیارے مار گرائے، ڈی جی آئی ایس پی آر

  • پاکستان اور آزاد کشمیر میں بھارتی میزائل حملوں میں 26 افراد شہید، 45 زخمی
شائع اپ ڈیٹ

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاک فوج نے بھارتی میزائل حملوں کے جواب میں 3 رافیل سمیت 5 بھارتی طیارے مار گرائے۔

قبل ازیں وزیر دفاع خواجہ آصف نے بلومبرگ کو بتایا تھا کہ پاکستانی فوج نے بھارتی میزائل حملوں کے جواب میں بھارتی فضائیہ کے پانچ طیارے مار گرائے ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی میزائل حملے میں 26 پاکستانی شہید اور 45 زخمی ہوگئے۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ بھارتی میزائل بہاولپور، کوٹلی اور مظفر آباد سمیت مختلف مقامات پر داغے گئے جب کہ نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پر بھی حملہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے 5 بھارتی طیارے مار گرائے جن میں تین رافیل، ایک مگ 21 اور ایک ایس یو 30 شامل ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ لائن آف کنٹرول پر بھارتی بریگیڈ ہیڈ کوارٹر اور چیک پوسٹ کو تباہ کردیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی بھی وقت ان کے (بھارتی) طیاروں کو پاکستان کی فضائی حدود میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی اور نہ ہی کسی بھی وقت پاکستان کا کوئی طیارہ بھارتی فضائی حدود میں داخل نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ کسی بھی وقت ان کے [بھارتی] طیاروں کو پاکستان کی فضائی حدود میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی اور نہ پاکستان کے طیارے بھارتی فضائی حدود میں داخل ہوئے ہیں ۔

اس سے قبل پی ٹی وی نیوز نے خبر دی تھی کہ پاکستانی افواج بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے رہی ہیں۔

قبل ازیں فوج کے ترجمان نے کہا تھا کہ ہم اپنے منتخب کردہ وقت پر جواب دیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاک فضائیہ کے طیارے فضا میں ہیں اور بھارتی لڑاکا طیاروں کو پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں ہے۔

انہوں نے بتایا کہ احمد پور شرقیہ کے قریب مسجد سبحان اللہ کو بھارتی حملوں میں سے ایک کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے تصدیق کی کہ حملوں میں کم از کم 8 افراد شہید اور 35 زخمی ہوئے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی میں 22 اپریل کو مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہونے والے مہلک حملے کے بعد تیزی سے اضافہ ہوا تھا، جس میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں زیادہ تر سیاح تھے۔

بھارت نے ثبوت پیش کیے بغیر اس حملے کا الزام سرحد پار عناصر پر عائد کیا تھا، تاہم پاکستان نے اس دعوے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اس کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔

پاکستان نے ممکنہ دراندازی کی پیش گوئی کرتے ہوئے سرحد پر اپنی فوجی موجودگی کو مضبوط کیا۔ دریں اثنا، بھارتی قیادت نے اپنی مسلح افواج کو ”آپریشنل آزادی“ دے دی، جس سے کشیدگی میں اضافے کا خدشہ مزید بڑھ گیا۔

نتائج پر قابو پانے کے لئے بیک چینل سفارتی کوششوں کے باوجود ، تناؤ زیادہ رہا۔

پاکستانی فوج نے کسی بھی جارحیت کا فوری جواب دینے کی وارننگ دی تھی جبکہ نئی دہلی نے اشارہ دیا تھا کہ وہ سرحد پار سے پیدا ہونے والے دہشت گردی کے خطرات پر کارروائی کرنے سے نہیں ہچکچائے گا۔

بھارت کا پاکستان میں 9 مقامات پر حملے کا دعوی

پاکستان اور آزاد کشمیر میں کئی مقامات پر متعدد زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جبکہ بھارت نے دعویٰ کیا کہ اس نے نو مقامات پر ”دہشت گردوں کے بنیادی ڈھانچے“ پر حملہ کیا ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکوں کے بعد آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں بجلی بند کردی گئی۔

بھارتی حکومت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کچھ عرصہ قبل بھارتی مسلح افواج نے ’آپریشن سندور‘ کا آغاز کیا تھا۔

ٹرمپ نے بھارتی جارحیت کو شرمناک قرار دیدیا ۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ پاکستان میں اہداف پر بھارتی حملے شرمناک ہیں۔

وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے حالیہ چند گھنٹوں میں ہونے والی کشیدگی میں شدت کے بارے میں ابھی سنا ہے۔