پاور ڈویژن نے ملک میں بجلی کی مارکیٹ کو مسابقتی بنانے کے لیے ’’کمپیٹیٹو ٹریڈنگ بائی لیٹرل کنٹریکٹ مارکیٹ‘‘ (سی ٹی بی سی ایم) کے تحت 800 میگاواٹ بجلی کے ابتدائی الاٹمنٹ کے پانچ سالہ منصوبے پر عمل درآمد کے لیے اسٹیک ہولڈرز سے 18 مئی 2025 تک تجاویز طلب کر لی ہیں۔

یہ اقدام نیشنل الیکٹریسٹی پلان (این ای پی) 27-2023 کے اسٹریٹجک ڈائریکٹو نمبر 87 میں مجوزہ ترامیم کے تناظر میں کیا گیا ہے، جس کے تحت بجلی کی آزاد رسائی اور مارکیٹ لبرلائزیشن سے پیدا ہونے والے اخراجات کی وصولی کے لیے وفاقی حکومت کو فریم ورک بنانے کا اختیار دیا جا رہا ہے۔

پاور ڈویژن کے مطابق، بجلی کی مارکیٹ میں مسابقتی نظام لانے اور نئی ٹیکنالوجیز کے باعث موجودہ بجلی گھروں کے اخراجات کی وصولی ایک بڑا چیلنج ہے۔ اس تناظر میں ایک ایسا طریقہ کار وضع کرنا ضروری ہے جو مالی پائیداری، صارفین کی استطاعت اور مارکیٹ میں مقابلے کے تقاضوں کے درمیان توازن قائم رکھ سکے۔

تجویز دی گئی ہے کہ وہ صارفین جو ”اوپن ایکسس“ کے تحت نجی سپلائرز سے بجلی حاصل کریں گے، ان سے درج ذیل چارجز وصول کیے جائیں:(i) گرڈ چارجز، جن میں ٹرانسمیشن و ڈسٹری بیوشن نظام کا استعمال، مارکیٹ اور سسٹم آپریٹر فیس، کراس سبسڈی چارجز، میٹرنگ سروس چارجز وغیرہ شامل ہیں؛(ii) اوپن ایکسس کے باعث پیدا ہونے والے کیپیسٹی چارجز۔

اگر حکومت اوپن ایکسس چارجز یا ان کے کسی جزو میں کمی کا فیصلہ کرتی ہے تو اس کمی کی مالی ذمہ داری حکومت خود برداشت کرے گی، بشرطیکہ بجٹ میں اس کے لیے گنجائش موجود ہو اور سپلائر آف لاسٹ ریزورٹ (ایس او ایل آر) کے صارفین پر اضافی بوجھ نہ پڑے۔

تاہم، کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) نے مجوزہ ترامیم کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مارکیٹ لبرلائزیشن کے تحت بجلی خریدنے والے صنعتی صارفین پر پرانے بجلی گھروں کے اضافی اخراجات (اسٹینڈرڈ کاسٹ) کا بوجھ ڈالنا غیر منصفانہ ہے، کیونکہ یہ اوپن مارکیٹ کے بنیادی اصولوں کی نفی ہے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچاتا ہے۔

کاٹی نے تجویز دی کہ ان اضافی کیپیسٹی کو مندرجہ ذیل طریقوں سے استعمال میں لایا جائے:(i) مارکیٹ پر مبنی کیپیسٹی آکشنز؛(ii) غیر فعال پاور پلانٹس سے انسلری سروسز کی خریداری؛(iii) بیلنسنگ اور ریزرو مارکیٹس میں ان کا انضمام۔

ایسوسی ایشن نے یہ بھی کہا کہ ایسے صارفین جو ایک ساتھ ایس او آر ایل اور نجی سپلائرز سے بجلی لیتے ہیں (ہائبرڈ صارفین) کو سی ٹی بی سی ایم کے ابتدائی مرحلے میں شامل نہ کیا جائے، کیونکہ اس سے گرڈ کی منصوبہ بندی میں غلطیاں، ”فری رائیڈنگ“ اور مارکیٹ میں عدم توازن پیدا ہوگا۔

کاٹی نے ڈسکوز اور کے الیکٹرک کو بھی مسابقتی سپلائرز کے طور پر شامل کرنے، صنعتی صارفین کے لیے دوہری ٹیرف ماڈل کے نفاذ، اور انورٹرز کی آئی ای ای ای/ نیپرا گرڈ کوڈز کے مطابق تعمیل کو لازمی قرار دینے کی بھی حمایت کی۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025