وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کے ساتھ اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی) نے ویڈیو لنک پر 2025-26 کے بجٹ کے لیے اپنی تجاویز پر تبادلہ خیال کیا۔

او آئی سی سی آئی کی ٹیکس تجاویز 2025-2026 میں کارپوریٹ ٹیکس کی شرح کو 25 فیصد تک مرحلہ وار کم کرنے، سپر ٹیکس کا بتدریج خاتمہ اور منظم صنعتوں جیسے تیل کی ریفائنریز کے لیے ٹرن اوور ٹیکس میں کمی کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ اس نے اہم پٹرولیم مصنوعات کو قابل ٹیکس فراہمی قرار دینے کی سفارش کی تاکہ شفافیت کو بڑھایا جاسکے اور ٹیکس نیٹ کو وسیع کیا جا سکے۔

او آئی سی سی آئی کی تجاویز میں سیلز ٹیکس کی شرح کو معقول بنانے کی تجویز بھی شامل ہے جو 18 فیصد ہے اور جو خطے کے معیاری سطح سے کافی زیادہ ہے، ساتھ ہی ودہولڈنگ ٹیکس نظام کی اصلاح کی تجویز بھی دی گئی ہے تاکہ شرح کی تعداد کو کم کیا جاسکے، کیٹیگریز کو منظم کیا جاسکے اور ٹیکس سے متعلق عمل کو خودکار بنایا جاسکے تاکہ کارکردگی اور شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔

اتنی ہی اہم ضرورت یہ ہے کہ ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کیلئے جامع حکمت عملی اپنائی جائے، جس میں ٹیکنالوجی اور ڈیٹا اینالیٹکس کا مؤثر استعمال کیا جائے تاکہ زراعت، ہول سیل اور ریٹیل ٹریڈ، رئیل اسٹیٹ اور وسیع خدمات کے شعبے سمیت تمام سیکٹرز سے منصفانہ ٹیکس وصولی کو یقینی بنایا جاسکے۔

او آئی سی سی آئی نے ٹیکس اصلاحات میں شفافیت کو ایک بنیادی ستون قرار دیتے ہوئے درآمدی ڈیٹا کی اشاعت پر زور دیا تاکہ انڈرانوائسنگ کو روکا جاسکے ۔ او آئی سی سی ئی کے اراکین کے 110 ارب روپے سے زائد کے ٹیکس ریفنڈز تاحال التوا کا شکار ہیں۔

او آئی سی سی آئی نے مؤقف اختیار کیا کہ ان سفارشات پر عملدرآمد ٹیکس نظام میں اعتماد اور جوابدہی کو مضبوط بنانے کے لیے نہایت اہم ہے۔ ادارے نے وفاقی ریونیو اتھارٹی کے قیام کی بھرپور وکالت کی — جو ایک متحدہ، یکساں ٹیکسیشن پلیٹ فارم ہوگا، جو ٹیکس کی وصولی اور انتظام کے لیے ون ونڈو حل فراہم کرے گا۔

ایک وفاقی اتھارٹی کے قیام سے کاروبار کرنے میں آسانی پر بہت زیادہ اثر پڑے گا۔ تاہم ریونیو اکٹھا کرنے کے دائرہ کار، تعمیل کی سطح اور نفاذ کے اختیارات کو مختلف ریونیو اداروں کے درمیان واضح طور پر طے کیا جانا چاہیے تاکہ ٹیکس دہندگان کو غیر ضروری پیچیدگی کا سامنا نہ ہو۔

او آئی سی سی آئی نے مزید ٹیکس مراعات کی تجویز دی ہے تاکہ کارپوریٹائزیشن کو فروغ دیا جا سکے، برآمدات میں اضافہ ہو اور گرین انرجی و پائیدار منصوبوں میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی جاسکے۔ ذاتی انکم ٹیکس کے حوالے سے او آئی سی سی آئی نے تنخواہ دار افراد اور باقاعدگی سے ٹیکس ادا کرنے والوں پر بوجھ کم کرنے کے لیے متعدد تجاویز پیش کی ہیں — جن میں 10 فیصد سرچارج کا خاتمہ، قابلِ ٹیکس آمدن کی حد میں اضافہ، اور تعلیم، صحت و رہائش کے اخراجات پر کٹوتی شامل ہے ۔ اسی کے ساتھ او آئی سی سی آئی نے وزارتِ خزانہ کے تحت جلد قائم ہونے والے ٹیکس پالیسی بورڈ کے دائرہ کار، ڈھانچے اور اہداف کے لیے ایک مختصر تجویز بھی جمع کرائی ہے۔

اس موقع پر وفاقی وزیرِ خزانہ نے اجلاس کے شرکاء کو حکومت کے درمیانی مدّت کے معاشی وژن سے آگاہ کیا جس کا مقصد ٹیکس بیس میں وسعت، ٹیکس ٹو جی ڈی پی کا تناسب بڑھانا اور اسٹرکچرل اصلاحات کے ذریعے معاشی استحکام حاصل کرنا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان ریونیو آٹومیشن لمیٹڈ میں شفافیت اور کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے اصلاحات نافذ کی جاچکی ہیں جبکہ مستقبل میں ڈیٹا پر مبنی نفاذ کے لیے نجی شعبے کی شمولیت کو فروغ دینے پر بھی غور کیا جارہا ہے ۔

وفاقی وزیر محمد اورنگزیب نے اپنے حالیہ دورہ امریکا کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ عالمی سرمایہ کاروں نے پاکستان کی معاشی سمت اور حکومتی اصلاحات پر اعتماد کا اظہار کیا اور حکومت پر زور دیا کہ وہ ان پالیسیوں کو جاری رکھے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت ایسی اصلاحات کے نفاذ کے لیے پُرعزم ہے جو منصفانہ ٹیکس نظام، سرمایہ کاری کی ترغیب اور جامع و پائیدار ترقی کے ہدف کو ممکن بنائیں گی۔

اجلاس کے دوران او آئی سی سی آئی کے صدر یوسف حسین نے حکومت کے معاشی وژن اور پائیدار ترقیاتی ماڈل کو سراہتے ہوئے کہا کہ چیمبر برآمدات میں اضافے ،مقامی وسائل کے استعمال، اور پیداواری استعداد بڑھانے سے متعلق حکومتی اقدامات کی مکمل حمایت کرتا ہے۔

او آئی سی سی آئی کے سیکریٹری جنرل ایم عبدالعلیم نے وزیرِ خزانہ کی واشنگٹن میں عالمی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ملاقاتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکومت کی درمیانی مدّت کی حکمتِ عملی، اسٹرکچرل اصلاحات، اور مالیاتی نظم و ضبط بزنس کمیونٹی کے لیے حوصلہ افزا پیغام ہیں ۔