خام تیل کی قیمتوں میں جمعہ کو اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کی وجہ چین کی جانب سے وہ بیان ہے جس میں اس نے کہا تھا کہ وہ امریکہ کے ساتھ ٹیرف پر بات چیت کے لیے تیار ہے جس سے دنیا کی دو سب سے بڑی معیشتوں کے درمیان تلخ تجارتی جنگ میں کمی کی امیدیں بڑھ گئیں۔

برینٹ کروڈ فیوچر 49 سینٹ یا 0.8 فیصد اضافے سے 62.62 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا جب کہ یو ایس ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کروڈ فیوچر 50 سینٹ یا 0.8 فیصد اضافے سے 59.74 ڈالر فی بیرل پر جاپہنچا۔

چین کے وزارتِ تجارت نے جمعہ کو کہا کہ بیجنگ واشنگٹن کی جانب سے پیش کردہ تجویز کا جائزہ لے رہا ہے جس کا مقصد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وسیع تر ٹیرف کے بارے میں بات چیت کرنا ہے جس سے عالمی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دینے والی تجارتی کشیدگی میں کمی کی ممکنہ نشاندہی ہوتی ہے۔

تشویش ہے کہ وسیع تر تجارتی جنگ عالمی معیشت کو کساد بازاری کی طرف دھکیل سکتی ہے اور تیل کی طلب کو متاثر کرسکتی ہے، بالخصوص جب اوپیک پلس گروپ پیداوار بڑھانے کی تیاری کررہا ہے جس نے حالیہ ہفتوں میں تیل کی قیمتوں پر سنگین اثرات ڈالے ہیں۔

تیل کی مارکیٹ کا تجزیہ فراہم کرنے والی کمپنی وندا ان سائٹس کی بانی وندنا ہری کا کہنا ہےاگر واشنگٹن اس پر عمل کرے گا، جیسا کہ میری توقع ہے تو یہ کئی ہفتوں سے مارکیٹوں کو گھیرے ہوئے مایوسی اور تباہی کے موڈ میں گیم چینجر ثابت ہوسکتا ہے۔

ہری نے کہا کہ کوئی بھی یہ توقع نہیں کرتا کہ سب کچھ آسانی سے ہو جائے گا، لیکن یہ وہ حوصلہ افزا پیش رفت ہے جو اس تعطل میں ہے جو مارکیٹوں پر دباؤ ڈال رہا ہے۔ تیل کی قیمتوں کو ایرانی تیل خریدنے والوں پر ثانوی پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی سے بھی تقویت ملی۔

ٹرمپ کے تبصرے ایران کے جوہری پروگرام پر امریکہ کی بات چیت کو ملتوی کرنے کے بعد آئے ہیں۔ اس سے پہلے انہوں نے ایران کے خلاف ”زیادہ سے زیادہ دباؤ“ کی مہم دوبارہ شروع کی تھی، جس میں ایران کے تیل کی برآمدات کو صفر تک لانے کی کوششیں شامل تھیں تاکہ تہران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکا جا سکے۔

جمعرات کی شام کے اختتام پر تیل کی قیمتوں میں ٹرمپ کے تبصروں کے بعد تقریباً دو فیصد کا اضافہ ہوا جس سے ہفتے کے شروع میں اوپیک پلس کی جانب سے مزید سپلائی کی توقعات کی بنا پر ہونے والی کمی کے کچھ حصے کا ازالہ ہوا۔

بدھ کو رائٹرز نے رپورٹ کیا کہ اوپیک پلس کے غیر رسمی رہنما سعودی عرب نے اپنے اتحادیوں اور صنعت کے ماہرین کو آگاہ کیا کہ وہ تیل کی قیمتوں کو مزید کمی سے بچانے کے لیے اضافی سپلائی کٹوتیوں پر راضی نہیں ہے۔

رائٹرز نے قبل ازیں رپورٹ کیا تھا کہ اوپیک پلس کے چند اراکین جون میں دوسری مرتبہ مسلسل تیل کی پیداوار میں اضافے کی تجویز دینے والے ہیں۔

اوپیک پلس کے آٹھ ممالک 5 مئی کو اجلاس کریں گے جس میں جون کے آؤٹ پٹ پلان کا فیصلہ کیا جائے گا۔