معروف صنعتکار اور سابق صدر کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری زبیر موٹیوالا نے کہا کہ پاکستان قدرتی گیس کی کمی والے ملک سے سرپلس ملک میں تبدیل ہوگیا ہے۔ تاہم یہ تبدیلی دریافتوں کی وجہ سے نہیں آئی، بلکہ اس کی وجہ وہ آسمان کو چھوتی قیمتیں ہیں جنہوں نے صنعتوں اور گھریلو صارفین کو کھپت میں نمایاں کمی کرنے پر مجبور کردیا ہے۔
بزنس ریکارڈر سے بات کرتے ہوئے زبیر موتی والا نے کہا کہ گیس کی طلب میں تیز کمی کے نتیجے میں ملک بھر میں سرپلس ہوچکا ہے، جس کے باعث سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) اور سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) کے نیٹ ورکس میں رسد، طلب سے کہیں زیادہ ہوگئی ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ ہم نے نئے ذخائر دریافت نہیں کیے بلکہ گیس کی قیمتوں میں آئی ایم ایف کی سفارش پر خاطر خواہ اضافہ ہونے کے بعد طلب میں بڑی کمی آگئی ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ صنعتی صارفین کے لیے گیس کی قیمت حالیہ برسوں میں 4,200 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو تک پہنچ گئی ہے جس کی وجہ سے یہ ایندھن بہت سی کاروباری اداروں کے لیے ناقابلِ برداشت ہوگیا ہے۔
پاکستان کی مقامی گیس کی پیداوار فی الحال 3 ہزار ایم ایم سی ایف ڈی (ملین مکعب فٹ یومیہ) سے تھوڑا زیادہ ہے جب کہ اس کے طویل المدتی درآمدی انفرااسٹرکچر کے ذریعے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کے ٹرمینلز کے ذریعے اضافی 1,200 ایم ایم سی ایف ڈی کی گیس درآمد کی جاسکتی ہے۔ تاہم مقامی اور صنعتی طلب میں کمی کے باعث یہ صلاحیت کم استعمال ہورہی ہے۔
زبیر موتی والا نے انکشاف کیا کہ سوئی سدرن گیس کمپنی کے نیٹ ورک سے کیپٹو پاور پلانٹس کے لیے صنعتی کھپت، جو پہلے تقریباً 200 سے 220 ایم ایم سی ایف ڈی تھی، اب صرف 99 ایم ایم سی ایف ڈی رہ گئی ہے۔
اس کے علاوہ متعدد صنعتی یونٹس نے لاگت کم کرنے کے لیے متبادل توانائی کے ذرائع جیسے بایوماس کا رخ کیا ہے۔
سابق صدر کراچی چیمبر نے ایک واقعہ شیئر کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے سائٹ ایریا میں ایک فیکٹری میں گیس کا پریشر 15 پاؤنڈ تک پہنچ گیا جس کی وجہ سے اس کے بوائلرز کو نقصان پہنچا۔
یہ ایک غیر معمولی واقعہ ہے جو طلب میں کمی کی شدت کو واضح کرتا ہے۔
دریں اثنا سینئر بزنس مین اور اسٹاک بروکر عارف حبیب نے کہا کہ اب گیس کی دستیابی مسئلہ نہیں رہی — بلکہ مسئلہ قیمتوں کا ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ مقامی طور پر پیدا ہونے والی قدرتی گیس اور درآمد شدہ آر ایل این جی کے درمیان قیمت کا فرق کم ہوگیا ہے جس کی وجہ سے صنعتی ٹیرف غیر مستحکم سطح پر پہنچ گئے ہیں۔
زبیر موتی والا نے اس بات کو اجاگر کیا کہ کاروباری برادری نے ان خدشات کو متعلقہ حکام، بشمول آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے سامنے اٹھایا ہے اورمتنبہ کیا ہے کہ یہ رجحان صنعتوں کو مکمل طور پر قدرتی گیس سے دور کررہا ہے۔
سرپلس کے باوجود گیس کمپنیاں خاص طور پر گھروں کے لیے لوڈ شیڈنگ جاری رکھے ہوئے ہیں۔