بروکریج ہاؤس عارف حبیب لمیٹڈ (اے ایچ ایل) نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ بھارت کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کی وجہ سے پاکستان اسٹاک مارکیٹ کو اپریل کے دوران نقصان اٹھانا پڑا۔ گزشتہ ماہ بینچ مارک کے ایس ای 100انڈیکس 6،480 پوائنٹس سے زائد گرگیا۔

بروکریج ہاؤس نے نوٹ کیا کہ عالمی تجارتی خدشات اُس وقت بڑھ گئے جب امریکہ نے 60 ممالک پر ٹیرف عائد کیے جن میں سب سے زیادہ چین کو ہدف بنایا گیا۔

تاہم کچھ ریلیف اس وقت ملا جب امریکہ نے بعد ازاں زیادہ تر ممالک کے لیے 10 فیصد سے زائد ٹیرف پر 90 دن کی معطلی کا اعلان کیا۔ اس دوران بھارت اور پاکستان کے درمیان دوبارہ بڑھتی جغرافیائی سیاسی کشیدگی نے علاقائی جذبات پر مزید بوجھ ڈالا۔

اے ایچ ایل کے مطابق بدھ کو بینچ مارک انڈیکس 111,327 پوائنٹس پر بند ہوا، جس میں ماہانہ بنیادوں پر 5.5 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جو “میکرو اکنامک اشاروں میں بہتری کے باوجود سرمایہ کاروں کے محتاط جذبات کو ظاہر کرتا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے مقبوضہ کشمیر میں سیاحوں پر مسلح افراد کی فائرنگ سے 26 افراد ہلاک اور 17 زخمی ہوگئے تھے جس کے بعد دونوں جوہری ہتھیاروں سے لیس ہمسایہ ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوگیا۔ بھارت اس حملے کا الزام پاکستان پر عائد کرتا ہے جبکہ اسلام آباد اس حملے میں ملوث ہونے سے انکار کرتا ہے۔

یہ حملہ پہلگام علاقے میں ہوا، مرنے والوں میں 25 ہندوستانی اور ایک نیپالی شہری شامل ہے۔

واقعے کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا جس کے بعد نئی دہلی نے سندھ طاس معاہدے کو معطل کردیا اور اسلام آباد نے بھارتی پروازوں کے لیے فضائی حدود بند کردی۔

قبل ازیں بدھ کو وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے بھارت کی جانب سے پاکستان پر ممکنہ فوجی حملے کے بارے میں 24 سے 36 گھنٹوں کے اندر خبردار کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس قابل اعتماد انٹیلی جنس ہے کہ بھارت پہلگام واقعے کو جھوٹے بہانے کے طور پر استعمال کرتے ہوئے آئندہ 24 سے 36 گھنٹوں کے اندر فوجی حملہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

دریں اثنا اے ایچ ایل نے اپنی رپورٹ میں اپریل کے دوران کئی مثبت اشارے پر روشنی ڈالی جس سے منفی دباؤ کو محدود کرنے میں مدد ملی۔

رپورٹ کے مطابق مہنگائی کے دباؤ میں کمی آئی اور مارچ 2025 کے لیے سی پی آئی صرف 0.7 فیصد تک گر گیا جو تقریباً چھ دہائیوں میں سب سے کم سطح ہے۔

پاکستان نے اپریل کے دوران معدنیات کے حوالے سے ایک کانفرنس کی میزبانی کی جس سے سرمایہ کاروں کا حوصلہ بڑھا۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ مارچ میں 1.2 ارب ڈالر کے ریکارڈ کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس نے سرمایہ کاروں کے جذبات کو مزید تقویت دی۔

تاہم اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں کمی کی وجہ سے یہ شرح کم ہوگئی جو اپریل کے اختتام تک 4.1 فیصد کم ہو کر 10.2 ارب ڈالر رہ گئی۔