پاکستان

لسٹڈ بینکوں کے منافع میں زبردست اضافہ، 173 ارب روپے تک پہنچ گیا

  • شرحِ سود میں کمی کے باوجود بینکنگ سیکٹر کی خالص سودی آمدنی (این آئی آئی) 536 ارب روپے رہی
شائع May 1, 2025 اپ ڈیٹ May 1, 2025 08:55am

پاکستان کے لسٹڈ بینکوں کا منافع جنوری تا مارچ 2025 یعنی پہلی سہ ماہی میں 14 فیصد سالانہ اور 12 فیصد سہ ماہی اضافے کے ساتھ 173 ارب روپے رہا۔

ٹاپ لائن سیکیورٹیز کی رپورٹ کے مطابق، شرحِ سود میں کمی کے باوجود بینکنگ سیکٹر کی خالص سودی آمدنی (این آئی آئی) 536 ارب روپے رہی، جو سالانہ 23 فیصد اور سہ ماہی 2 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔ اس اضافے کی وجہ شرحِ سود کا از سرِ نو تعین ہونا، قرضوں میں اضافہ اور ریپو مارکیٹ سے زیادہ منافع بخش قرضے بتائی گئی ہے۔

سودی آمدنی 1.4 ٹریلین روپے رہی جو کہ سالانہ 19 فیصد اور سہ ماہی 13 فیصد کم ہوئی، جبکہ سودی اخراجات 0.9 ٹریلین روپے رہے، جو کہ سالانہ 32 فیصد اور سہ ماہی 20 فیصد کمی کو ظاہر کرتے ہیں۔

کیلنڈر سال 25 کی پہلی سہ ماہی میں غیر سودی آمدنی 133 ارب روپے رہی، جو سالانہ 6 فیصد اضافہ جبکہ سہ ماہی بنیاد پر 28 فیصد کمی ظاہر کرتی ہے۔ اس کمی کی وجہ کیپٹل گینز اور فیس و کمیشن آمدنی میں کمی بتائی گئی۔

غیر سودی اخراجات 293 ارب روپے رہے، جو سالانہ 19 فیصد زیادہ جبکہ سہ ماہی بنیاد پر 19 فیصد کم ہوئے۔ سالانہ اضافے کی وجہ مہنگائی اور برانچز کی توسیع بتائی گئی جبکہ سہ ماہی کمی کی وجہ نیشنل بینک کی یک وقتی پنشن لاگت کا نہ ہونا قرار دیا گیا۔ اس سے سیکٹر کا لاگت بہ مقابل آمدنی تناسب 44 فیصد رہا، جو کہ گزشتہ سال اور سہ ماہی دونوں سے بہتر ہے۔

کیلنڈر سال 25 کی پہلی سہ ماہی میں بینکنگ سیکٹر نے 6 ارب روپے کی پرویژنز بک کیں، جو کہ سالانہ 36 فیصد اور سہ ماہی 83 فیصد کم ہیں۔ اس کی بڑی وجہ آئی ایف آر ایس-9 کے نفاذ اور اثاثہ جات کے معیار میں بہتری ہے۔

کیلنڈر سال 25 کی پہلی سہ ماہی میں مؤثر ٹیکس ریٹ 53 فیصد رہا، جو کہ کیلنڈر سال 24 کی پہلی سہ ماہی میں 50 فیصد اور کیلنڈر سال 24 کی آخری سہ ماہی میں 56 فیصد تھا۔ یاد رہے کہ حکومت نے 2024 کے آخر میں اے ڈی آر سے منسلک ٹیکس کو ختم کر کے مجموعی ٹیکس کی شرح 49 فیصد سے بڑھا کر 53 فیصد کر دی تھی۔