وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان اپنے ٹیکس اور محصولات کے نظام میں بڑے پیمانے پر ڈیجیٹل اصلاحات کو آگے بڑھاتے ہوئے عالمی انفارمیشن ٹیکنالوجی پاور ہاؤس بننے کے لئے بڑا قدم اٹھا رہا ہے۔

وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی ڈیجیٹل تبدیلی پر ایک اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے زور دیا کہ حکومت مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے ڈیجیٹل جدت، جیسے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹمز، ڈیجیٹل انوائسنگ اور مصنوعی ذہانت پر مبنی تجزیاتی نظام، پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ دنیا پاکستان کے کاروباری ماہرین کی صلاحیتوں کو تسلیم کر رہی ہے۔ ہمارے پاس ٹیلنٹ بھی ہے، وژن بھی، اور اب سرمایہ کاری بھی ہے۔

اجلاس میں ایف بی آر کے اصلاحاتی ایجنڈے پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور خاص طور پر ریونیو سیکٹر کی ٹیکنالوجی پر مبنی جدید کاری میں سرمایہ کاروں کی دلچسپی بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ممکنہ آئی ٹی سرمایہ کاروں سے رابطہ کے لیے فوری طور پر ایک ویبینار کا انعقاد کیا جائے تاکہ ایف بی آر کی ڈیجیٹل اصلاحات میں سرمایہ کاری کے مواقع کو مؤثر انداز میں پیش کیا جا سکے۔ انہوں نے پاکستانی ماہرین کو بااختیار بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی ماہرین صرف ہماری معیشت نہیں بلکہ عالمی معیشت پر بھی اثر ڈال سکتے ہیں۔ اگر ہم انہیں بااختیار بنائیں گے تو نتائج خود بولیں گے۔

وزیراعظم نے ڈیجیٹل انویسٹمنٹ فورم میں آئی ٹی سیکٹر میں کیے گئے 700 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کے وعدوں کا خیر مقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس اعلیٰ درجے کے ماہرین موجود ہیں جو اگر درست پلیٹ فارم مہیا کیے جائیں تو شاندار نتائج دے سکتے ہیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ مقامی سرمایہ کاروں سے مؤثر روابط کو ترجیح دی جائے کیونکہ پائیدار ترقی مضبوط مقامی سرمایہ کاری سے جڑی ہوتی ہے۔

وزیراعظم کو ایف بی آر کے ڈیجیٹل اقدامات کے مرحلہ وار نفاذ اور اس سے وابستہ سرمایہ کاری کے مواقع پر بھی بریفنگ دی گئی۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025