وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت نے بجٹ 26-2025 کی تجاویز کا جائزہ لینے کے لیے آزاد ماہرین اور تجزیہ کاروں کی خدمات حاصل کی ہیں۔

بدھ کے روز کراچی سے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و ریونیو کو وفاقی بجٹ (26-2025) پر اپ ڈیٹ دیتے ہوئے وزیر خزانہ نے بتایا کہ کاروباری برادری سے 95 فیصد سے زائد بجٹ تجاویز موصول ہو چکی ہیں، جن کا تجزیہ آزاد ماہرین کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ آئندہ ٹیکس پالیسی وزارت خزانہ میں قائم کیے گئے نئے یونٹ کے تحت تشکیل دی جائے گی، جس کے ڈائریکٹر جنرل براہ راست وزیر خزانہ کو رپورٹ کریں گے۔

وزیر خزانہ نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں کراچی سے ورچوئلی شرکت کی اور اپنے حالیہ دورہ واشنگٹن ڈی سی کے بارے میں بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ اس دورے کے دوران انہوں نے کثیرالطرفہ اور دو طرفہ قرض دہندگان، ہم منصب وزرا، اور بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں کے نمائندوں سمیت 70 سے زائد ملاقاتیں کیں۔

انہوں نے کہا کہ اس دورے کے دوران عالمی اداروں کی طرف سے تین اہم پیغامات موصول ہوئے۔ پہلا، ساختی اصلاحات اور پالیسیوں کا تسلسل۔ دوسرا، پاکستان کو معاشی محاذ پر اپنی موجودہ سمت پر قائم رہنا چاہیے۔ تیسرا، پالیسی اصلاحات میں مستقل مزاجی برقرار رکھنی چاہیے۔

اجلاس کے آغاز میں وزیر خزانہ نے کمیٹی کو امریکہ کے دورے، اعلیٰ سطح ملاقاتوں اور آئندہ بجٹ کے بارے میں تفصیلات فراہم کیں۔

قائمہ کمیٹی کے چیئرمین نے اس پیش رفت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک اہم پیش رفت ہے کیونکہ پہلی مرتبہ بجٹ پر قائمہ کمیٹی کی سطح پر باقاعدہ غور و خوض کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بجٹ پر بحث زیادہ تر اسمبلی اجلاس تک محدود رہتی تھی اور تفصیلی امور سے کٹی ہوئی ہوتی تھی۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025