اٹک پٹرولیم لمیٹڈ (پی ایس ایکس:اے پی ایل) نے مارچ 2025 کو ختم ہونے والے نو ماہ کی مالیاتی رپورٹ جاری کردی، جو پاکستان کے آئل مارکیٹنگ سیکٹر کو درپیش مجموعی رجحانات اور چیلنجز کی عکاسی کرتی ہے۔ اس مدت کے دوران کمپنی کو فروخت میں کمی، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں گراوٹ اور بڑھتی مسابقت کا سامنا رہا، جبکہ اٹک پٹرولیم نے اپنے آپریشنز کو متنوع بنانے کے اقدامات بھی کیے۔
کمپنی کی آمدن میں مالی سال 2025 کی نو ماہ کے دوران سالانہ بنیاد پر 29 فیصد کمی دیکھی گئی، اور فی حصص آمدن 86.65 روپے سے گھٹ کر 61.88 روپے ہو گئی۔ خالص فروخت میں 12 فیصد کمی کی وجہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور فروخت میں کمی رہی۔
مجموعی منافع میں بھی 25 فیصد سالانہ کمی واقع ہوئی، تاہم سہ ماہی بنیاد پر مجموعی منافع کا مارجن مالی سال 25 کی تیسری سہ ماہی میں قدرے بہتری کے ساتھ 4.7 فیصد رہا، جس کی وجہ مؤثر انوینٹری مینجمنٹ تھی۔
کمپنی کی فروخت دباؤ میں رہی، اور موٹر اسپرٹ (ایم ایس) اور ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کی فروخت بالترتیب 5 فیصد اور 17 فیصد گزشتہ سہ ماہی کے مقابلے میں کم ہوئیں، جس کی بڑی وجوہات ربیع سیزن کا اختتام اور بلند قیمتیں تھیں۔
کمپنی کا مارکیٹ شیئر 1 فیصد کم ہو کر 9 فیصد رہ گیا، کیونکہ مارکیٹ میں گیس اینڈ آئل پاکستان (گو) کی جارحانہ توسیع نے پرانے کھلاڑیوں کے لیے مسابقتی دباؤ بڑھا دیا۔
اگرچہ کمپنی کو اپنے مالیاتی اثاثوں جیسے ٹی بلز، پی آئی بیز اور میوچل فنڈز سے آمدن حاصل ہوئی، مگر شرح سود میں کمی کے باعث مالی آمدن میں 11 فیصد کمی واقع ہوئی۔ دوسری طرف، مالی اخراجات میں 27 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔
کاروبار کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے، اٹک پٹرولیم نے اپنی ذیلی کمپنی اٹک انرجی (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے ذریعے حب پاور ہولڈنگز لمیٹڈ اور گرین بائے انرجی (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے ساتھ مل کر پاکستان کا پہلا الیکٹرک گاڑیوں کی چارجنگ اور بیٹری سویپنگ نیٹ ورک قائم کرنے کا منصوبہ شروع کیا ہے۔ یہ منصوبہ قابل تجدید توانائی پر مبنی الیکٹرک وہیکل اسٹیشنز کا نیٹ ورک فراہم کرے گا۔
آئل مارکیٹنگ سیکٹر کو مجموعی طور پر سخت حالات کا سامنا رہا۔ تاہم، اسمگل شدہ ایندھن کے خلاف کارروائی، قیمتوں میں کمی اور گاڑیوں کی فروخت میں بہتری کے باعث مجموعی پیٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
موٹر اسپرٹ اورہائی اسپیڈ ڈیزل کی فروخت میں بالترتیب 4 فیصد اور 9 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ فرنس آئل کی فروخت میں 39 فیصد کمی دیکھی گئی کیونکہ بجلی کی پیداوار میں فرنس آئل کا استعمال کم ہو رہا ہے۔اس شعبے میں مجموعی منافع کا مارجن مالی سال 25 کی تیسری سہ ماہی کے دوران تقریباً 3.3 فیصد رہا، جو انوینٹری نقصانات اور کمزور فروخت کی نشاندہی کرتا ہے۔
آگے جا کر، پیٹرولیم مصنوعات کی طلب میں اضافہ متوقع ہے کیونکہ معیشت کی بتدریج بحالی اور تیل کی کم قیمتیں اس کی حمایت کریں گی۔ تاہم، نئے مارکیٹ پلیئرز کا دباؤ اور اوگرا کی جانب سے منافع کے مارجن میں اضافے جیسے فیصلوں میں تاخیر اب بھی خطرات بنے ہوئے ہیں۔ اگر تیل کی قیمتیں مستحکم رہیں تو انوینٹری نقصانات کم ہوں گے، اور شرح سود میں نرمی سے مالی اخراجات میں کمی آنے کی امید ہے، جس سے اس شعبے کے منافع کو کچھ سہارا مل سکتا ہے۔