بھارتی اولمپین جیولن تھرو نیرج چوپڑا نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے حملے کے بعد اب یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ پاکستانی حریف ارشد ندیم آئندہ ماہ بنگلورو کلاسک جیولین تھرو مقابلے میں شرکت کریں۔

جوہری ہتھیاروں سے لیس ہمسایہ ممالک پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات بدھ کو 26 سیاحوں کی ہلاکت کے بعد مزید خراب ہوگئے ہیں ۔ واضح رہے کہ بھارت حملے کا الزام پاکستان پر عائد کررہا ہے۔

حملے سے ایک دن قبل چوپڑا نے اعلان کیا تھا کہ پیرس اولمپکس چیمپیئن ندیم سمیت دنیا کے ٹاپ تھروکھلاڑیوں کو 24 مئی کو پہلے نیرج چوپڑا کلاسک میں مدعو کیا گیا ہے۔

حملے سے ایک دن قبل نیرج چوپڑا نے اعلان کیا تھا کہ دنیا کے چوٹی کے جیولن تھرو کھلاڑیوں، بشمول پیرس اولمپکس کے چیمپئن ارشد ندیم کو 24 مئی کو ہونے والے پہلے نیرج چوپڑا کلاسک میں مدعو کیا گیا ہے — یہ ایک ایسا ایونٹ جس کے ذریعے وہ امید رکھتے تھے کہ مستقبل میں بھارت میں ڈائمنڈ لیگ مقابلے کا انعقاد ممکن ہو سکے گا۔

تاہم مقبوضہ کشمیر میں حملے کے بعد نیرج چوپڑا کے ارشد ندیم کو دعوت دینے کے فیصلے پر شدید تنقید کی گئی، حالانکہ یہ پہلے ہی امکان نہیں تھا کہ پاکستانی ایتھلیٹ اس ایونٹ میں شرکت کریں گے۔

ٹوکیو میں طلائی اور پیرس میں چاندی کا تمغہ جیتنے والے نیرج چوپڑا نے جمعہ کو ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ میرے ارشد ندیم کو نیراج چوپڑا کلاسک میں شرکت کی دعوت دینے کے فیصلے پر بہت زیادہ بات ہوئی ہے اور زیادہ تر باتیں نفرت اور گالی گلوچ پر مبنی رہی ہیں۔

ارشد ندیم کو جو دعوت دی تھی، وہ ایک کھلاڑی کی دوسرے کھلاڑی سے تھی — نہ اس سے زیادہ، نہ کم۔ نیراج چوپڑا کلاسک کا مقصد دنیا کے بہترین ایتھلیٹس کو بھارت لانا اور ہمارے ملک کو عالمی معیار کے کھیلوں کے مقابلوں کا مرکز بنانا تھا۔

گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران جو کچھ ہوا ہے اس کے بعد ارشد کی این سی کلاسک میں موجودگی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان کے پہلے انفرادی اولمپک گولڈ میڈلسٹ ارشد نذیر نے بنگلور میں ہونے والے مقابلوں میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

دونوں ممالک کے درمیان کشیدہ تعلقات رواں سال کھیلوں کی دنیا میں بھیدیکھے گئے جب بھارت کی کرکٹ ٹیم نے چیمپئنز ٹرافی کے لیے پاکستان آنے سے انکار کردیا تھا اور 9 مارچ کے فائنل سمیت اپنے تمام میچ دبئی میں کھیلے تھے۔